اسلام آباد: امیر جمعیت العلمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے عیدالفطر کے بعد کل جماعتی کانفرنس (اے پی سی ) بلانے کا اعلان کیا ہے۔
اپنے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس جے یو آئی کی میزبانی میں منعقد ہو گی اور اس میں مشترکہ مؤقف کے تحت آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کارکنان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جلد اسلام آباد میں قومی سطح کا مارچ ہو گا لہذا وہ پرعزم رہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ جس طرح ان کی جماعت نے ملک گیر سطح پر ملین مارچ کیے ہیں بالکل اسی طرح یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔
مولانا فضل الرحمان نے وڈیو پیغام میں مزید کہا کہ انتخابات کے بعد تمام سیاسی جماعتوں نےاتفاق رائے سے 2018 کے عام انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیا تھا لیکن اس وقت اے پی سی منعقد نہ ہو سکی تھی۔
ان کے مطابق اے پی سی میں اگر دیگر جماعتیں بھی شرکت کرنا چاہیں گی تو ان کا خیرمقدم کیا جائے گا۔
مولانا فضل الرحمن صاحب سے گزارش ہے کہ اسلام کو نگاہ میں رکھیں اسلام آباد کو نہیں۔ قوم کے معصوم بچوں کو کرپٹ مافیا کے دفاع کیلئے سیاسی قوت بنانا نہ اسلام ہے اور نہ ہی جمہوریت ۔آپ عمران خان کی عداوت میں مبتلا ہیں۔عالم دین ہونے کی حیثیت سے آپ امن و اخوت کو فروغ دیں عداوت کو نہیں۔
— Firdous Ashiq Awan (@Dr_FirdousPTI) May 22, 2019
وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان اپنا ردعمل ایک ٹویٹ کے ذریعے دیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ’’ مولانا فضل الرحمن صاحب سے گزارش ہے کہ اسلام کو نگاہ میں رکھیں اسلام آباد کو نہیں‘‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ قوم کے معصوم بچوں کو بدعنوان مافیا کے دفاع کے لیے سیاسی قوت بنانا نہ اسلام ہے اور نہ ہی جمہوریت۔
فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ’’آپ عمران خان کی عداوت میں مبتلا ہیں‘‘۔
انہوں نے جے یو آئی (ف) کے امیر کو مشورہ دیا ہے کہ ’’عالم دین ہونے کی حیثیت سے آپ امن و اخوت کو فروغ دیں عداوت کو نہیں‘‘۔