ٹی وی پر باتیں کرنے کو تو ٹاک شو کہتے ہیں، جج
پشاور ہائی کورٹ نے خیبرپختونخوا حکومت کو اٹک تک کوئی بھی روڈ کنٹینر لگا کربند نہ کرنے کی ہدایات جاری کردی
صحافیوں کے ٹاک شوز میں حصہ لینے پر کوئی پابندی عائد نہیں کی، پیمرا پریس ریلیز
فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اگر کسی معاملے پر عدالت اینکرز کو بلاتی ہے تو اس میں حکومت کچھ نہیں کر سکتی۔ عدلیہ کے فیصلوں پر عملدرآمد کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
ایڈیٹرز اینڈ نیوزڈائریکٹرز ایسوسی ایشن کی طرف سے جاری اعلامیہ میں کہا گیاکہ آئین کاآرٹیکل 19تمام شہریوں کواظہاررائےکی آزادی دیتاہے،پیمرانےمیزبانوں اورٹاک شوزکےانعقادپرناقابل قبول پابندیوں کامطالبہ کیا ہے۔
کسی اینکر کو اظہار خیال سے نہیں روکا، فردوس عاشق اعوان کا دعویٰ
ماہر قانون سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پیمرا کا خط آزادی صحافت پر حملہ ہے اور صحافت پر پابندی کے مترادف ہے۔
‘سیاسی شخصیات عدالتی کارروائی پر ٹی وی پروگراموں میں بحث کر کے عدالت کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہیں’
کمیٹی نے اس سلسلے میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) سے مدد طلب کر لی ہے۔
قائمہ کمیٹی نے میڈیا کورٹس، پی ٹی وی ریفارمز، ریڈیو، فلم پالیسی اور فلم سینسرشپ پر تفصیلات طلب کر لیں۔
جسٹس شاہد مبین نےسوشل میڈیا ویب سائٹ اور ایپ ٹک ٹاک پر پابندی کے خلاف ایک شہری کی درخواست پر سماعت کی۔
ذرائع ابلاغ پر پابندیوں کا بیانیہ کچھ مفادات کے لیے ہے، فردوس اعوان
ٹک ٹاک موبائل ایپ نوجوان نسل کو تباہ کر رہی ہے اور فحاشی عام ہورہی ہے، درخواست گزار کا مؤقف
پیمرا کے 1157 کیس عدالتوں میں زیر التوا ہیں، جس طرح ٹیکس کورٹس ہیں اس طرح میڈیا کورٹس کی رائے دی گئی تاکہ مسائل کا حل جلدی ہو سکے۔
ویڈیو کی تحقیقات کی جائے اور پریس کانفرنس میں اسے دکھانے والوں کو طلب کیا جائے، درخواست گزار کا مؤقف۔














