نیب نے شاہد خاقان عباسی سمیت ریفرنس کے تمام شریک ملزمان کو بری کردیا
شاہد خاقان عباسی ضمانت لینے کے لئے تیار نہیں تھے لیکن پارٹی نے انہیں مجبور کیا، بیرسٹرظفراللہ
مفتاح اسماعیل کو ایک کروڑ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔
ریفرنس میں اختیارات کے غلط استعمال اور ایک کمپنی کو 21ارب روپے سے زائد کا فائدہ پہنچانے کا الزام لگایا گیا
قومی احتساب بیورو نے مفتاح اسماعیل کو سات اگست کو حراست میں لیا تھا
نیب راولپنڈی ریجنل بورڈ نے شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل اور عمران الحق کو ملزم نامزد کیا ہے
‘نیب کو سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کیس بنایا جائے’
جن سوالات کے جوابات کے لیے سرکاری ریکارڈ درکار تھا ان کا ریکارڈ ملنے کے بعد تیار کیے گئے ہیں، ذرائع
شاہد خاقان عباسی پر بطور وفاقی وزیر اضافی رقم جاری کروانے کا الزام ہے،ذرائع
نیب کی جانب سے وزیرریلوے کو بطور شکایت کنندہ طلب کیا گیا ہے۔
راولپنڈی: قومی احتساب بیورو(نیب) کی راوپنڈی برانچ نے ایل این جی کیس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف…








