سستی پیٹرولیم مصنوعات ملنے کی صورت میں سالانہ 2 ارب ڈالر زرمبادلہ کی بچت ہوسکے گی۔
یکم سے15جنوری تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رہیں گی۔
کیروسین آئل کی قیمت میں دس روپے جب کہ لائٹ اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7.5 روپے کی کمی جا رہی ہے۔
کہا جا رہا ہے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بے قابو ہو گیا ہے، لیکن ایسا نہیں ہے،وزیر خزانہ
اب 30 نومبر تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کوئی ردوبدل نہیں ہوگا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اکتیس اکتوبر تک برقرار رہیں گی۔
ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں 31 اکتوبر تک توسیع کر دی ہے۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار
جرمنی اور فرانس میں بجلی کا یونٹ 250 روپے کا ہے جب کہ پاکستان 80 روپے کا یونٹ 35 روپے میں بیچ رہا ہے۔
پٹرول کی قیمت میں 2 روپے 7 پیسے اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 235 روپے 98 پیسے ہو گئی۔
خریداری پرانی تھی اس وجہ سے تیل کی قیمت بڑھی،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے15دن کیلئے تھوڑا مشکل ہوگا۔
اس طرح کے فیصلوں پر مشاورت ضرور ہونی چاہیے، آصف علی زرداری
حکومت نے آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا حتمی اعلان وزیر اعظم شہباز شریف کل کریں گے۔
آج قوم کو مایوسی کے ایک اور بحران کا سامنا ہے،انتشار اور نفرت کے بیج بوئے جا رہے ہیں، شہباز شریف
آج رات بارہ بجے کے بعد ڈیزل کی قیمت میں40 روپے 54 پیسے اور پیٹرول 18 روپے 50 پیسے کی کمی کی جا رہی ہے۔










