چاروں افراد کنویں میں موجود زہریلی گیس سے جاں بحق ہوئے ہیں۔
ایک ماہی گیر بے ہوشی کی حالت میں ملا جسے اسپتال منتقل کر دیا گیا
پولیس نے باقاعدہ تفتیش و تحقیق کا آغاز کردیا ہے۔
قلم کی نب زہریلے کھانے اور گیس کی موجودگی پر اپنا رنگ بدل لیتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق زہریلی گیس لیک ہونے سے پلانٹ کے آس پاس کی آبادی میں سے کم سے کم ایک ہزار افراد متاثر ہوئے
زیر علاج متاثرین کے خون کے نمونوں پر مبنی رپورٹ بھی تاحال مرتب نہیں کی جا سکی ہے۔
زہریلی گیس کے اخراج سے پہلےدن 6 اور دوسرے دن 8 افراد جان کی بازی ہار گئے
کراچی کے اسپتالوں نے تصدیق کی ہے کہ وقفے وقفے سے مزید مریضوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے
شہر قائد میں موجود ہنگامی حالات کے پیش نظر آج منعقد ہونے والا سندھ کابینہ کا اجلاس بھی ملتوی کردیا گیا ہے۔
زہریلی گیس سے متاثرہ مریضوں کی کل تعداد 220 ہوگئی ہے اور ان میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
سید مراد علی شاہ نے فوری طور پراہم اجلاس طلب کرلیا ہے جس میں چیف سیکرٹری، کمشنرکراچی اور صوبائی سیکرٹری صحت سمیت دیگر متعلقہ حکام شرکت کررہے ہیں۔
سربراہ ایدھی فاؤنڈیشن فیصل ایدھی کے مطابق بندرگاہ کے قریبی علاقے کیماڑی میں زہریلی گیس کا اخراج ہوا جس کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
کوئٹہ: بلوچستان کے علاقے دکی میں کوئلہ کی کان میں زیرہلی گیس بھرنے کی وجہ سے دو کان کن جاں…












