سپریم کورٹ نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔
سینیٹ الیکشن میں 2 کروڑ سے بولی لگ رہی تھی، عمران خان
سینیٹ کے انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے عمران خان اکیلے کھڑے رہے، رہنما پی ٹی آئی
سینیٹ الیکشن میں ٹیکنالوجی کے استعمال کےلیے کمیٹی بنائی جائے گی
پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن، جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کی اوپن بیلٹ کی مخالفت
سپریم کورٹ پارلیمان کا متبادل نہیں، ریاست کے ہر ادارے نے اپنا کام حدود میں رہ کر کرنا ہے، پارلیمان کا اختیار اپنے ہاتھ میں نہیں لیں گے، چیف جسٹس گلزار احمد
آئین میں اختلاف رائے پر کوئی نااہلی نہیں ہوتی،جسٹس اعجاز الاحسن
درخواست گزار کے مطابق الیکشن ایکٹ کی دفعہ 122 آئین پاکستان کے آرٹیکل 22 اور 226 کے متصادم ہے
الیکشن ایکٹ کی دفعہ 122 آئین پاکستان کے آرٹیکل 22 اور 226 کے متصادم ہے
حکومت نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ یا شو آف ہینڈز کے ذریعے کرانے کے لئے سپریم کورٹ سے رائے طلب کی ہے
سینیٹ انتخابات آ ئین کے تحت نہیں کرائے جاتے ہیں، صدارتی ریفرنس









