وزیراعظم عمران خان چاہتے ہیں کہ بچوں کا کورونا وائرس سے خیال رکھا جائے، یہی وجہ ہے کہ حکومت کا پہلا فیصلہ تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا تھا، وزیر تعلیم
سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں پہلے ہی تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے ہیں
فیصلہ صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں کیا گیا۔
ہلاک ہونے والے بچوں کی عمریں 10 سے 12 سال کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔ ذرائع
بچوں کو صبح 9 بجے دوا دی گئی اور دوپہر ایک بجے کے قریب انہیں اسپتال لایا گیا۔
سرکاری اسکولوں کی تعطیلات میں 12 جنوری تک توسیع کر دی گئی ہے۔
سندھ میں تمام تعلیمی ادارے کھل گئے ہیں تاہم سردی زیادہ ہونے کے سبب حاضری کی شرح معمول سے کم ہے
محکمہ تعلیم کے صوبائی سیکریٹری اس ضمن میں حتمی فیصلہ کل کریں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ چھٹیوں میں اضافے کا فیصلہ طلبا اور اساتذہ کے مشکلات کی وجہ سے کیا گیا
20 دسمبر سے 5 جنوری تک تمام اسکولز بند رہیں گے، محکمہ اسکول ایجوکیشن کا نوٹیفیکیشن
پولیس اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ چکی ہیں، شاہد نامی گارڈ کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے
سرکاری و نجی اسکولوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ آئندہ 20 دسمبر تک کسی بھی طرح کی غیر نصابی سرگرمیوں کا انعقاد نہ کریں۔
وزیراعلی پنجاب سردارعثمان بزدار نے دونوں منصوبوں کی منظوری دے دی۔
جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں 10 سے 20 سال کے درمیان ہیں۔
پولیس نے ملزم کی اہلیہ ساجدہ کو حراست میں لے لیا۔














