حزب اختلاف کی رہبر کمیٹی کے معاملے پر اختلافات سامنے آ گئے۔
شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی کے بعد اسٹاک مارکیٹ بھی گرنے لگی ہے۔
چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر کی تنخواہوں، الاؤنسز اور مراعات ایکٹ 1975 میں مزید ترمیم کرنے کا بل ایوان میں پیش کر دیا گیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ حزب اختلاف خوفزدہ ہے کہ اگر ہم کامیاب ہو گئے تو ان کی سیاست ختم ہو جائے گی۔
محمد ندیم قریشی نے دعویٰ کیا کہ بڑی تعداد میں حزب اختلاف کے اراکین حکومت کا حصہ بننے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔
سندھ کے ممبر نثار درانی جبکہ بلوچستان سے شاہ محمد جتوئی ممبر ہوں گے
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم سے مشاورت کے بعد حکومتی ٹیم نے بابر یعقوب کا نام واپس لینے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔
قمر الزمان کائرہ نے کہا کہ شہباز شریف کو وطن واپس آنا چاہیے کیونکہ قائد حزب اختلاف کا ملک میں ہونا ضروری ہے۔
پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی نے کہا ہے کہ کراچی سندھ کا حصہ ہے اور وہاں ترقیاتی کاموں کی ذمہ داری سندھ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
میر حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے ثابت کر دیا کہ اب انہیں کسی اتحاد کی ضرورت نہیں ہے۔
فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ہم دیگر مسائل پر بھی قومی مفاد کے فیصلے کریں گے۔
فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر حزب اختلاف کا رویہ قابلِ تحسین ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آزادی مارچ کے حوالے سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ حکومت کے خلاف قومی سطح پر بے زاری اور نفرت پیدا ہوئی۔
وزیراعظم قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت سے پہلے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔
پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی نے کہا ہے کہ نیب کے پاس اگر ثبوت نہیں ہیں تو وہ لوگوں کی عزت سے نہ کھیلیں۔














