سوال یہ ہے کہ کس ایجنسی یا شخص نے بگنگ شروع کی؟ رہنما تحریک انصاف
وزیراعظم ہاوس کی سیکیورٹی سوالیہ نشان ہے، تحقیقات بہت ضروری ہے،سابق وفاقی وزیر
12 گھنٹوں میں 3 آڈیولیکس کا وقت اہم اور تشیوش ناک ہے، سابق وزیر داخلہ
آڈیو لیک کو بغیر تحقیقات کے سنجیدہ نہیں لینا چاہیے، اگرپرائم منسٹر ہاؤس میں یہ معاملہ ہوا ہو تو پھر سیریس ہونا چاہیے، رانا ثنا اللہ
شوکت ترین کی آڈیو کٹ پیسٹ کی گئی،یہ کام یہ پہلے بھی کرتےرہے ہیں، رہنما پی ٹی آئی
عدالتی حکم کے بغیر آڈیو ٹیپ کرنا غیر قانونی اور جرم ہے، رہنما پی ٹی آئی
آڈیو ریکارڈنگ کرنے والوں کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم سیل میں درخواست بھی دوں گی, عظمیٰ کاردار






