اے پی سی 3 مئی 2023 کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہو گی، امیر حیدر خان ہوتی
اے این پی کی ترجیحات حکومت نہیں، عوام ہیں، سربراہ اے این پی
جب خیبر پختونخوا کا نام رکھا تو اسفندیار ولی جیسا دلیر شخص رو پڑا، سابق صدر پاکستان کا پارٹی کارکنان سے خطاب
ہمیں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کردار ادا کرنے چاہئے تاکہ اس کے مضر اثرات سے بھی پاکستان کو بچایا جا سکے۔ سربراہ اے این پی
مجھ سمیت جس نے بھی کرپشن کی ہے، اسے ثابت کریں اور پھانسی دے دیں۔
اگر رہبر کمیٹی کوئی متفقہ فیصلہ نہیں کرتی ہے تو پھر اے این پی اپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہوگی۔
تحاریک میں ایک مرتبہ جو فیصلے ہوجائیں وہ تبدیل نہیں ہوتے ہیں۔ سربراہ اے این پی
اے این پی سربراہ نے کہا کہ کپتان نے مجھ پر ایک روپے کی کرپشن ثابت کی تو مجھے سزا دینے کی بجائے سر عام پھانسی دے دیں ۔
عوامی نیشنل پارٹی کے اعلامیہ کے مطابق اے این پی 31اکتوبر کو آزادی مارچ کا حصہ بنے گی،اے این پی قافلے کی قیادت اسفندیار ولی خان خود کریں گے۔ وہ رشکئی انٹرچینج سے قافلے کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد روانہ ہونگے۔
اے این پی کے سربراہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیاہے کہ حکومتی کارروائیوں سے ایسا ہی لگ رہا ہے کہ حکومت خود انتشار پیدا کرنا چاہتی ہے۔
جرگہ میں شامل تمام عمائدین نے مولانا فضل الرحمان کو آزادی مارچ میں شرکت کی بھرپور یقین دہانی کرائی۔قبائلی رہنماؤں نے جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ سے ملاقات میں آزادی مارچ میں بھرپور شرکت کا وعدہ بھی کرلیا۔
انہوں نے کہا کہ جب تک افغان حکومت مذاکرات کا حصہ نہ ہو تب تک یہ مذاکرات بے نتیجہ ہیں اور بے نتیجہ ہی رہیں گے۔
اسفندریار نے کہا ان پر پختون قوم کا پچیس ملین ڈالر میں سودا کرنے کا الزام لگانے سے انکی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔
اپوزیشن اپنے اختلافات ختم کرکے ایک پیج پر اکھٹی ہو، ملک کو مشکل سے نکالنے کے لیے مل کر جدوجہد کرنا ہوگی۔ اسفندیار ولی خان









