بطور اقلیتی شہری اس اعلیٰ ترین منصب پر پہنچنے والے پہلے برطانوی ہیں۔
،سابق برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے ہاؤس آف کامنز سے آخری خطاب میں کہا کہ وہ نئے وزیراعظم کی ہر ممکن مدد کریں گی۔
اگر یورپی یونین سے علیحدگی کے امور طے نہیں ہوتے ہیں تو برطانیہ نہ صرف بنا ڈیل کے علیحدہ ہوجائے بلکہ 50 ارب ڈالرز کی رقم دینے سے بھی معذرت کرلے۔ ٹرمپ کا مشورہ
برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے بریگزٹ ڈیل منظور ہونے کی صورت میں استعفے کا اعلان کردیاتھا
یورپی یونین نے برطانیہ کی درخواست پر پہلے ہی طے شدہ تاریخ 29 مارچ سے بڑھا کر 12 اپریل کردی تھی۔
برطانوی پارلیمنٹ میں قائد حزب اختلاف جیریمی کوربن نے بھی وزیراعظم تھریسامے سے ملاقات کرنے پہ آمادگی ظاہر کردی ہے۔
پیش قرار داد پر حکومت کو 302 کے مقابلے میں 329 ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
برطانوی قوم سے خطاب کے دوران وزیراعظم نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ اگر بریگزٹ 30 جون سے زیادہ التواء کا شکارہوتی ہے تو وہ مستعفی ہوسکتی ہیں۔
بریگزٹ میں مشروط تاخیر کی قرار داد کے حق میں 412 اور مخالفت میں 202 ووٹ ڈالے گئے۔