کارکن گیٹ کھول کر ریڈزون میں داخل ہوئے۔
پی ڈی ایم منتظمین کے خلاف مقدمہ اے پی ڈیمک کنٹرول اینڈ ایمرجنسی ریلیف ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے۔
جے یو آئی، اے این پی، پی کے میپ، قومی وطن پارٹی اور نیشنل پارٹی نئے اتحاد کا حصہ ہوں گی۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا ہےکہ رات 8 بجے روڈ آزادی مارچ ختم کرکے شاہراہیں ٹریفک کیلئے کھول دی جائیں گی ۔
تمام اسپتالوں کے ڈاکٹرز اور عملے کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔
ذرائع کا کا کہناہے کہ آزادی مارچ کا پہلا پڑاؤ سکھر میں ہوگا ۔ سندھ اور بلوچستان سے آنے والے قافلے سرائیکی وسیب کےضلع رحیم یارخان کی تحصیل صادق آباد سے پنجاب میں داخل ہونگے۔
پولیس نے گرفتار ملزمان کی مدد سے مختلف جگہوں پر چھاپے مارنا شروع کر دیے ہیں
حکومتی کمیٹی میں اسد قیصر، صادق سنجرانی، شفقت محمود، اسد عمر، نور الحق قادری اور پرویز الہی شامل
درخواست میں جمعیت علمائے اسلام پر پابندی عائد کرنے کی بھی استدعا کی گئی تھی