ماسکو، روسی جوہری کمپنی نے ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ سے اپنے مزید عملے کو نکالنے کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود صورتحال اب بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق کمپنی کے سربراہ نے واضح کیا کہ ابھی وقت نہیں آیا کہ عملے کو دوبارہ بوشہر پلانٹ بھیجا جائے۔
رپورٹس کے مطابق اس وقت بھی بوشہر پلانٹ میں روسی کمپنی کے تقریباً 50 ارکان موجود ہیں، جبکہ 611 اہلکار پہلے ہی آرمینیا کے راستے واپس جا چکے ہیں۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا امکان، آئندہ ہفتے اہم پیش رفت متوقع
روسی حکام کا کہنا ہے کہ عملے کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور حالات مکمل طور پر معمول پر آنے تک انخلا کا عمل جاری رکھا جائے گا۔
بوشہر ایران کا واحد فعال جوہری پلانٹ ہے جسے روس نے تعمیر کیا اور وہاں اپنا عملہ بھی تعینات کیا تھا۔ عرب میڈیا کے مطابق حالیہ جنگ کے دوران اس اہم تنصیب پر چار بار حملے کیے گئے، جس کے بعد سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا۔
