نیویارک: اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل عبداللہ دردری نے انکشاف کیا ہے کہ ایران سے متعلق جاری جنگ کے باعث صرف ایک ماہ کے دوران عرب ممالک کو تقریباً 186 ارب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل عبداللہ دردری نے کہا ہے کہ جنگ بندی میں ہر دن کی تاخیر نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے باعث عرب خطے کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً 6 فیصد کمی کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔
اسسٹنٹ سیکرٹری نے کہا کہ مشرقی بحیرہ روم کے ممالک کو بھی بھاری اقتصادی نقصان کا سامنا ہے۔ جہاں ممکنہ نقصانات کا تخمینہ 30 ارب ڈالر تک لگایا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے عہدیدار نے خبردار کیا کہ اس تنازع کے نتیجے میں عرب ممالک میں تقریباً 37 لاکھ ملازمتیں ختم ہو سکتی ہیں۔ جبکہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران 40 لاکھ مزید افراد غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں یا جانے کے خدشات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز سے خود تیل لائیں، امریکی صدر یورپی ممالک پر برس پڑے
عبداللہ دردری نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فوری جنگ بندی کے لیے اقدامات کرے۔ تاکہ مزید انسانی اور معاشی نقصان سے بچا جا سکے اور خطے میں استحکام بحال ہو۔
