ورلڈ بیک اپ ڈے (World Backup Day) کے موقع پر جاری ایک نئی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا بھر میں 84 فیصد صارفین اپنا حساس ڈیٹا ڈیجیٹل ذرائع میں محفوظ کر رہے ہیں، جس پر ماہرین نے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صارفین کی بڑی تعداد اپنی اہم معلومات جیسے شناختی دستاویزات، مالی ریکارڈ، طبی معلومات اور ذاتی تصاویر کو الیکٹرانک ڈیوائسز یا آن لائن پلیٹ فارمز پر محفوظ رکھتی ہے۔ خاص طور پر نوجوان صارفین (18 سے 34 سال) میں ڈیجیٹل اسٹوریج کا رجحان نمایاں طور پر زیادہ دیکھا گیا ہے۔
پاکستان کے تین بڑے شہروں میں 5 جی سروس کا آغاز
اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ 56 فیصد افراد اپنا ڈیٹا کمپیوٹرز یا ہارڈ ڈرائیوز میں محفوظ کرتے ہیں، جبکہ 45 فیصد کلاؤڈ سروسز پر انحصار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک قابلِ ذکر تعداد سرکاری ڈیجیٹل سسٹمز کو بھی استعمال کر رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ڈیجیٹل اسٹوریج سہولت اور فوری رسائی فراہم کرتا ہے، تاہم اس کے ساتھ سائبر حملوں، ڈیٹا لیکس اور غیر مجاز رسائی جیسے سنگین خطرات بھی وابستہ ہیں۔
اسی تناظر میں صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے باقاعدہ بیک اپ حکمتِ عملی اپنائیں، خصوصاً “3-2-1 اصول” پر عمل کریں، جس کے تحت ڈیٹا کی تین کاپیاں، دو مختلف میڈیمز میں، اور ایک علیحدہ مقام (جیسے کلاؤڈ) پر محفوظ کی جائے۔
مکڑی کی طرز پر ڈیزائن کیا گیا جدید اے آئی روبوٹ تیار
مزید برآں، حساس معلومات جیسے پاس ورڈز اور مالی ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کے لیے جدید سیکیورٹی ٹولز اور انکرپشن کا استعمال ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق، ڈیجیٹل دور میں ڈیٹا کا بیک اپ اب محض ایک احتیاطی اقدام نہیں بلکہ ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔
