ایران پر جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں مختلف ممالک کے تقریباً 3 ہزار جہاز پھنس گئے ہیں، جس سے عالمی تجارت اور ترسیل کا نظام شدید متاثر ہو گیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث ٹرانسپورٹ کمپنیاں متبادل اور طویل زمینی راستے اختیار کرنے پر مجبور ہیں، جس سے نقل و حمل کے اخراجات میں 200 فیصد تک اضافہ اور ترسیل کے وقت میں تین گنا تک تاخیر ہو گئی ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز صرف ان ممالک کیلئے بند کی گئی ہے جو جارحیت میں ملوث ہیں، جبکہ دیگر ممالک ایرانی حکام سے رابطہ کرکے اپنے جہاز گزار سکتے ہیں۔
دوسری جانب بھارتی میڈیا کے مطابق کم از کم 18 بھارتی پرچم بردار جہاز، جن میں ایل پی جی، خام تیل اور ایل این جی لے جانے والے جہاز شامل ہیں، آبنائے ہرمز میں محصور ہیں۔
رپورٹس کے مطابق خلیج فارس کے دیگر سمندری علاقے بھی ہائی رسک زون قرار دیے جا چکے ہیں، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس اہم تجارتی راستے کی بندش بھارت سمیت خطے کے کئی ممالک میں توانائی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
