امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی وقت براہ راست مذاکرات ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ایران کے ساتھ تیسرے فریق کے ذریعے بات ہورہی ہے، مارکو روبیو نے عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ کے بعد نیٹو سے تعلقات پر نظر ثانی کریں گے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے نمائندہ خصوصی وٹکوف کی جانب سے کچھ براہِ راست پیغامات ضرور موصول ہوئے ہیں لیکن ان کا مقصد کسی قسم کے باضابطہ مذاکرات نہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے اور ایران نے امریکی تجاویز پر کوئی جواب بھی نہیں بھیجا۔
آبنائے ہرمز سے خود تیل لائیں، امریکی صدر یورپی ممالک پر برس پڑے
دونوں ممالک کے متضاد بیانات کے باعث خطے میں سفارتی سرگرمیوں اور ممکنہ پیش رفت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
