واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ میں مدد نہ کرنے والے یورپی ممالک پر برس پڑے۔ اور انہیں آبنائے ہرمز سے خود تیل لانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں امریکا مدد نہیں کرے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد اپنے اختتام کو پہنچ جائے گی۔ تاہم امریکا نے ایران کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے اور اس کی جوہری صلاحیتوں کو مؤثر طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ایران کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ اور امریکا اس مقصد میں کامیاب رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم عالمی بحری گزرگاہ کو استعمال کرنے والے ممالک کو خود آگے بڑھ کر اسے کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔ اگر امریکا میدان میں پوری طاقت کے ساتھ آیا تو آبنائے ہرمز خود بخود کھل جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کے پاس ایران کی جانب سے ہونے والے کسی بھی ممکنہ حملے کو روکنے کے لیے تمام ضروری وسائل موجود ہیں۔ اور امریکی دفاعی نظام ایرانی میزائلوں کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ حالیہ کارروائیوں کے بعد ایران کو دوبارہ کھڑا ہونے میں کم از کم 10 سال لگ سکتے ہیں۔ کیونکہ اس کی عسکری اور جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے ساتھ جنگ کے آنے والے دن فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، امریکی وزیر جنگ
انہوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ امریکا نے ایران کی جوہری صلاحیتوں کو ختم کر کے عالمی امن کے لیے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ جبکہ آنے والے دنوں میں خطے کی صورتحال میں مزید بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔
