اسلام آباد، اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہونے والے وکلاء کے لیے گاؤن پہننے کی لازمی پابندی ختم کر دی گئی ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر ڈپٹی رجسٹرارجنرل نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق وکلاء کی یہ روایت تاحکم ثانی ختم رہے گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق وکلاء اب عدالت میں پیش ہونے کے لیے گاؤن پہننے کے پابند نہیں ہوں گے اور یہ فیصلہ یکم اپریل 2026 سے نافذ العمل ہو گا۔
عمران خان کیخلاف پہلے سے باعزت بری ہونیوالے مقدمے میں نیا چالان پیش ، عدالت نے داخل دفتر کر دیا
اس اقدام کا مقصد وکلاء کیلئے عدالت میں آمد و رفت کو آسان بنانا اور رسمی رسوم و رواج میں نرمی لانا بتایا گیا ہے۔
وکلاء برادری نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے عدالت میں پیش ہونے کے عمل میں سہولت پیدا ہوگی۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ یہ فیصلہ صرف گاؤن پہننے کی پابندی ختم کرنے سے متعلق ہے اور وکلاء کو دیگر عدالت کی ضوابط اور قوانین پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ گاؤن پہننے کی روایت اب وکلاء کی مرضی کے مطابق ہوگی اور یہ فیصلہ آئندہ مزید ہدایات یا حکم تک جاری رہے گا۔
