واشنگٹن: امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فضائیہ ایران کے خلاف جاری کارروائیوں میں مصروف ہے۔ اور امریکی پائلٹ ایرانی فضائی حدود میں انتہائی مؤثر انداز میں آپریشن انجام دے رہے ہیں۔
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ ہفتے مشرق وسطیٰ کے دورے پر گئے جہاں انہوں نے خطے میں تعینات امریکی فوجیوں سے ملاقات کی اور آپریشنل صورتحال کا جائزہ لیا۔
انہوں نے کہا کہ “آپریشن ایپک فیوری” تیزی اور کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ اور امریکی افواج ایران میں طے شدہ اہداف کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہیں۔ گزشتہ روز ایران میں تقریباً 200 مقامات پر حملے کیے گئے۔
پیٹ ہیگسیتھ نے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی بحریہ، فضائیہ اور عسکری قیادت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اور ایرانی فوج کی سپلائی چین کو بھی بری طرح متاثر کیا گیا ہے۔ ایران کی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے اہم صنعتی اور تحقیقاتی مراکز کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے اگر میزائل حملوں کی کوشش کی گئی تو امریکا انہیں فضا میں ہی تباہ کر دے گا۔ ایران کے ساتھ جنگ کے آنے والے دن فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
امریکی وزیر جنگ نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کے خواہاں ہیں۔ تاہم اگر ایران نے بات چیت میں لچک نہ دکھائی تو اس کے لیے حالات مزید مشکل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ کے تقریباً 150 جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں۔ اور ایرانی عسکری قیادت اس وقت شدید دباؤ اور مایوسی کا شکار ہے۔ امریکا کے پاس اس تنازع میں زیادہ سفارتی اور عسکری آپشنز موجود ہیں جبکہ ایران کے پاس محدود راستے رہ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی وزیر اعظم کا ایران جنگ کا حصہ بننے سے انکار
امریکی وزیر جنگ نے ایران کی قیادت کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا تو مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے ہیں۔ بصورت دیگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
