اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں ایک ماہ کے لیے ایک روپے 64 پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان ہے۔
سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کی درخواست پر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) ہیڈ آفس میں سماعت ہوئی۔ سی پی پی اے نے مؤقف اختیار کیا کہ فروری میں ریفرنس سے 12.7 زیادہ بجلی پیدا کی گئی ہے۔ اور فروری میں زرعی شعبے کی بجلی کی کھپت 36.1 فیصد کم ہوئی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ صنعتی شعبے کی بجلی کی کھپت 28.8 فیصد اور ڈومیسٹک کی کھپت 11.3 فیصد بڑھی ہے۔ حکومتی رعایتی پیکج کی وجہ سے صنعتی شعبے کی کھپت 25 فیصد زیادہ رہی۔ اور زرعی شعبے کی بجلی کی کھپت 7 فیصد زیادہ رہی۔
سی پی پی اے نے کہا کہ ایندھن کی قیمتیں دن میں تین سے چار مرتبہ اوپر نیچے ہوتی ہیں۔ ساہیوال کول پاورپلانٹ کے ریلوے کے ساتھ مسائل ہیں۔ اور وفاقی حکومت کی کوشش ہے کہ ساہیوال کول پاورپلانٹس کی انوینٹری کم نہ ہو۔ درآمدی کوئلے کی سپلائی چین پر کوئی مسائل نہِیں ہیں۔ جبکہ سرکلرڈیٹ کے حوالے سے تمام چیزیں کنٹرول میں ہیں۔
نیپرا نے سی پی پی اے کی درخواست پر سماعت مکمل کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اتھارٹی اعدادوشمار کا جائزہ لینے کے بعد قیمتوں کے بارے میں حتمی فیصلہ کرے گی۔ اور من و عن منظوری سے بجلی صارفین پر 14 ارب سے زائد کا بوجھ پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایل پی جی کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑے اضافے کا امکان
نیپرا نے کہا کہ بجلی کی قیمت میں اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک سمیت ملک بھر کے صارفین پر ہو گا۔
