امریکہ کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان فرانسسکو (UCSF) سائنسدانوں کی ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انسانی جسم میں موجود ہاضمے کا نظام بیماری کی صورت میں دماغ کو براہِ راست ایسے سگنلز بھیجتا ہے جو بھوک میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق جب جسم کسی انفیکشن یا بیماری کا شکار ہوتا ہے تو آنتوں میں موجود مخصوص خلیے اس غیر معمولی کیفیت کو محسوس کرتے ہیں اور فوری طور پر دماغ تک پیغامات منتقل کرتے ہیں۔
مچھر بعض افراد کو زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟ سائنسی وجوہات سامنے آگئیں
ان پیغامات کے نتیجے میں دماغ کھانے کی خواہش کو کم کر دیتا ہے، جس کے باعث مریض کو بھوک کم محسوس ہوتی ہے یا وہ کھانے میں دلچسپی کھو دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ ایک قدرتی دفاعی نظام ہے، جو بیماری کے دوران جسم کو توانائی محفوظ رکھنے اور اسے صحت یابی کے عمل پر مرکوز کرنے میں مدد دیتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تبدیلی فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتی بلکہ بیماری کے آغاز کے کچھ وقت بعد نمایاں ہوتی ہے، جس کے باعث ابتدا میں بھوک معمول کے مطابق رہ سکتی ہے اور بعد میں اچانک کم ہو جاتی ہے۔
نوجوانوں میں ذہنی امراض کی بنیادی وجہ کیا ہے؟ ماہرین نے بتادیا
تحقیق سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ جسم اور دماغ کے درمیان ایک پیچیدہ اور مربوط رابطہ موجود ہے، جو نہ صرف بیماری کے دوران جسمانی ردِعمل کو کنٹرول کرتا ہے بلکہ رویّوں میں بھی تبدیلی لاتا ہے۔
