برطانیہ کی سوانسی یونیورسٹی کی نئی تحقیق کے مطابق نوعمر نوجوانوں کی غذائی عادات ان کی ذہنی صحت پر نمایاں اثر ڈالتی ہیں اور ذہنی امراض کے خطرے میں اضافہ کرتی ہیں۔
امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع تحقیق میں مختلف غذائی پیٹرنز کا جائزہ لیا گیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ نوجوانوں کی ذہنی کیفیت، خصوصاً ڈپریشن اور اضطراب (anxiety) پر کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔ محققین نے مجموعی طور پر تقریباً 19 تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا۔
مچھر بعض افراد کو زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟ سائنسی وجوہات سامنے آگئیں
نتائج سے یہ واضح ہوا کہ متوازن، صحت مند اور غذائیت سے بھرپور غذا عام طور پر بہتر ذہنی صحت سے منسلک ہوتی ہے، جبکہ غیر متوازن اور کم معیار کی غذا ذہنی دباؤ اور منفی جذبات میں اضافے سے جڑی پائی گئی۔
ماہرین کے مطابق وہ نوجوان جو پھل، سبزیاں، پروٹین اور متوازن غذائی اشیاء کا استعمال کرتے ہیں، ان میں ذہنی صحت کے بہتر نتائج دیکھنے میں آتے ہیں، جبکہ زیادہ پراسیسڈ اور غیر صحت بخش غذا استعمال کرنے والے نوجوان نسبتاً زیادہ ذہنی مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔
محققین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ نوعمری ذہنی اور جسمانی نشوونما کا ایک اہم مرحلہ ہے، جس میں غذا ایک قابلِ تبدیل عنصر کے طور پر اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس لیے صحت مند غذائی عادات کو فروغ دے کر نوجوانوں کی ذہنی فلاح و بہبود کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
دل کے مریضوں کیلیے خوشخبری؛ مریم نواز کا انقلابی پروگرام
تحقیق میں اس بات پر زور دیا گیا کہ صرف انفرادی غذائی اجزاء کے بجائے مجموعی غذائی عادات (dietary patterns) کا جائزہ زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
تاہم، ماہرین نے یہ بھی واضح کیا کہ اس تعلق پر دیگر عوامل جیسے سماجی و معاشی حالات، طرزِ زندگی اور جینیاتی اثرات بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں، اس لیے اس موضوع پر مزید تحقیق کی ضرورت برقرار ہے۔
