لاس اینجلس کی وفاقی عدالت میں مائیکل جیکسن کی اسٹیٹ کے خلاف بچوں کے استحصال اور جنسی زیادتی کا نیا مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق چار بھائی بہن ایڈورڈ، ڈومینک، میری-نکول اور آلڈو کیسکیو کا دعویٰ ہے کہ جیکسن نے انہیں بچپن میں منشیات، الکحل اور فحش مواد کے ذریعے ذہنی اور جسمانی طور پر متاثر کیا اور مختلف ممالک میں لے جا کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
عالیہ بھٹ کا آل بلیک لک سوشل میڈیا پر مذاق بن گیا
ان کے مطابق یہ بدسلوکی ایک دہائی سے زائد عرصے تک جاری رہی اور جیکسن نے اپنی شہرت اور اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے انہیں خاندان سے الگ کر دیا۔ مقدمے میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ زیادتی صرف نیور لینڈ رینچ تک محدود نہیں رہی بلکہ جیکسن کے بین الاقوامی دوروں اور مشہور شخصیات جیسے ایلٹن جان اور ایلزبتھ ٹیلر کے گھروں میں بھی جاری رہی۔

مقدمے کے مطابق جیکسن نے نابالغوں کو نشے، الکحل اور فحش مواد فراہم کر کے ذہنی دباؤ میں رکھا اور ان کی پرورش اور فیصلوں پر قابو پایا تاکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق عمل کریں۔ یہ مقدمہ 27 فروری 2026 کو لاس اینجلس کی وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا۔
اسٹیٹ کی جانب سے مقدمے کو فوری طور پر مسترد کیا گیا اور اسے مالی مفادات کے حصول کی کوشش قرار دیا گیا۔ مزید کہا گیا کہ سابقہ معاہدات اور بیانات کے پیش نظر یہ مقدمہ غیر ضروری اور بے بنیاد ہے۔

عماد عرفانی اور اہلیہ کا مرحوم بیٹے کی یاد میں متاثر کن اقدام
واضح رہے کہ یہ کیس اس لحاظ سے بھی پیچیدہ ہے کہ یہ بھائی بہنیں ماضی میں جیکسن کے دفاع میں بھی سامنے آ چکی ہیں اور پہلے کہا تھا کہ ان کے خلاف کوئی غلط کام نہیں ہوا، جس سے قانونی پیچیدگی اور عوامی دلچسپی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
