ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے نہ صرف ایران بلکہ عالمی سطح پر شدید ردعمل اور غم و غوص کی لہر دوڑا دی ہے۔
ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے تصدیق کی ہے کہ خامنہ ای 86 سال کی عمر میں اسرائیل اور امریکہ کے مبینہ مشترکہ حملے میں شہید ہو گئے، جس کے بعد ملک بھر میں سات روزہ تعطیل اور 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔
رمضان ٹرانسمیشن میں اسکرپٹڈ کالز پر جویریہ سعود شدید تنقید کی زد میں
اس خبر نے پاکستان سمیت دیگر ممالک میں بھی گہرے جذبات پیدا کیے ہیں، جہاں شوبز شخصیات نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے تعزیتی پیغامات اور غم کا اظہار کیا ہے۔
معروف اداکارہ مایا علی نے خامنہ ای کی تصویر شیئر کرتے ہوئے انہیں ایک بااثر عالمی رہنما قرار دیا اور اُن کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

پاکستانی گلوکارہ ایمہ بیگ نے سوشل میڈیا پر اس واقعے کے پس منظر میں عوامی ردعمل پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب عالم اسلام ایک بڑے سانحے کا شکار ہے، تو کچھ موضوعات پر توجہ کیوں مرکوز کی جا رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ وقت سوگ اور عکاسِ سوچ کا ہے، نہ کہ غیر متعلق موضوعات پر بحث کا۔
عروہ حسین کے نام کی تبدیلی پر مباحثہ شروع ہو گیا

اداکارہ یمنیٰ زیدی نے بھی ایک ویڈیو کلپ شیئر کیا اور خامنہ ای کی وفات پر دکھ کا اظہار کیا، ساتھ ہی اُنہوں نے اُن کے دین و دنیا پر اثر رکھنے والے بیانات اور تقاریر کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

اداکارہ مشی خان نے انسٹا اسٹوری میں دونوں آنسوؤں اور جذبات کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا، جبکہ نادیہ خان نے اپنے رمضان ٹرانسمیشن میں اس واقعے کو مسلمانوں کے لیے مشکل وقت قرار دیا۔

یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کی سیاسی قیادت نے بھی اس واقعے پر گہری تشویش اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم نے اس واقعے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اعادہ کیا۔
بین الاقوامی سطح پر بھی خامنہ ای کے قتل کے ردعمل میں شدید تقسیم دیکھی جا رہی ہے، جس میں کچھ ممالک نے اس عمل کی مذمت کی ہے جبکہ دیگر نے اس کے ممکنہ اثرات پر تبصرہ کیا ہے۔
