راولپنڈی: بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے واضح کیا ہے کہ عمران خان کی صحت سے متعلق فیصلے کرنے کا اختیار پارٹی کے پاس نہیں بلکہ یہ مینڈیٹ خاندان اور معالجین کے پاس ہے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے دیگر بہنوں کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محسن نقوی آئے اور کہا کہ پارٹی ہمارے ساتھ ہے۔ تاہم یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ عمران خان کی صحت پر فیصلہ کرنا پارٹی کا اختیار نہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ مکمل طور پر فیملی اور ڈاکٹرز کا مینڈیٹ ہے۔ اور اس حوالے سے وہ متعدد بار سوشل میڈیا پر اپنا مؤقف بیان کر چکی ہیں۔
علیمہ خان نے کہا کہ جب الشفا اسپتال کا معاملہ سامنے آیا تو انہوں نے اس پر بھی ٹوئٹس کیں۔ پس پردہ اطلاعات مل رہی تھیں کہ ایجنسیوں کے اہلکار ڈاکٹرز تک پہنچ چکے ہیں۔ اور وہاں دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خاندان ایسی جگہ علاج چاہتا تھا جہاں طبی رپورٹس کو نہ چھپایا جا سکے۔ اور علاج فیملی اور ڈاکٹرز کی موجودگی میں شفاف انداز میں ہو۔
بڑا کلئیر ہو جائیں کہ عمران خان کی صحت پر فیصلے کرنے کا مینڈیٹ پارٹی کے پاس نہیں یہ فیملی اور ڈاکٹرز کا مینڈیٹ ہے، علیمہ خان pic.twitter.com/JtTLElw0t1
— Ajmal Jami (@ajmaljami) February 25, 2026
علیمہ خان نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق معاملات میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور خاندان کو اعتماد میں لیا جائے۔
