بنوں میں پاک فوج کی گاڑی پر خودکش حملے کے تانے بانے افغانستان میں موجود خارجی حافظ گل بہادر سے جا ملے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بنوں خودکش حملے کی ذمہ داری فتنہ الخوارج کے ذیلی گروہ اتحاد المجاہدین نے قبول کر لی، اتحاد المجاہدین کا تعلق فتنہ الخوارج کے حافظ گل بہادر گروپ سے ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اس گروہ کا مرکزی سرغنہ گل بہادر اور اس کے اہم کمانڈر افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں، حافظ گل بہادر گروپ افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی اور فتنہ انگیزی میں ملوث ہے۔
بنوں میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر فتنہ الخوارج کا حملہ، 5 دہشت گرد ہلاک، 2 جوان شہید
ذرائع کے مطابق گزشتہ سال 4 مارچ کو رمضان المبارک میں اسی گروہ نے بنوں کینٹ پر حملہ کیا تھا ،بنوں کینٹ حملے کی منصوبہ بندی بھی افغانستان سے ہوئی تھی۔
ذرائع کے مطابق 2 ستمبر 2025 کو فیڈرل کانسٹیبلری بنوں میں ہونے والے فتنہ الخوارج کے حملے کے دوران میجر عدنان شہید نے بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ میر علی سمیت شمالی اور جنوبی وزیرستان میں ہونے والے متعدد حملوں کی ذمہ داری اس گروپ نے قبول کی، بعدازاں ثابت ہوا کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری بھی افغانستان سے کی گئی تھی۔
سکیورٹی فورسز کی بنوں میں کارروائی، 22 خارجی دہشت گرد ہلاک
ذرائع کے مطابق حافظ گل بہادر سمیت فتنہ الخوارج کے مرکزی سرغنوں کی افغانستان میں موجودگی ثبوت ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق شواہد سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ اکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں 70 فیصد سے زائد عناصر افغان نژاد یا افغانستان سے مربوط نیٹ ورکس سے تعلق رکھتے ہیں۔ افغان طالبان رجیم کی دہشت گردوں کی سرپرستی خطے میں امن کی کوششوں کو مسلسل سبوتاژ کر رہی ہے۔
