امریکی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دے دیا۔
امریکی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سطح پر یکطرفہ ٹیرف نافذ کرکے وفاقی قانون کی خلاف ورزی کی۔
عدالت نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیرف عائد کرتے وقت اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، جس کے باعث عالمی تجارت بری طرح متاثر ہوئی تھی۔
یورپی یونین کو ٹرمپ ٹیرف کیخلاف ردعمل کیلئے تیار رہنا چاہیے، فرانسیسی صدر
عدالت نے 6 کے مقابلے میں 3 ججوں کی اکثریت سے قرار دیا کہ صدر کو اتنے وسیع اختیارات استعمال کرنے کے لیے کانگریس کی واضح منظوری درکار تھی ۔
سپریم کورٹ کا اکثریتی فیصلہ جان رابرٹس نے تحریر کیا جس میں کہا گیا کہ انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ صدرِ امریکا کو ٹیرف عائد کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔
کینیڈا نے چین کیساتھ تجارتی ڈیل کی تو100 فیصد ٹیرف لگائیں گے، ٹرمپ
اس فیصلے کو ٹرمپ کی معاشی پالیسی کے لیے ایک بڑا عدالتی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ٹیرف ان کے اقتصادی ایجنڈے کا ایک اہم ہتھیار سمجھے جاتے تھے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سمیت متعدد ممالک پر ٹیرف عائد کیا تھا۔
