سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کے فنانس ڈویژن کی سروس ٹربیونل فیصلے کیخلاف اپیل زائد المیعاد قرار دے کر خارج کر دی،تاخیر معاف کرنے کی حکومتی استدعا بھی مسترد کردی گئی،تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا۔
سپریم کورٹ نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا کہ حکومت کے مطابق افسرکے تبادلے کی وجہ سے فائلیں دفتر رہیں،حکومت کے مطابق اپیل دائر کرنے میں دیر ہوئی،سرکاری افسران کی کمی یا کمیٹیوں کے اجلاس نہ ہونا حکومت کا اپنا قصور ہے۔
سپریم کورٹ نے قتل کے مجرم کی عمر قید کی سزا کم کرکے 15 سال کر دی
قانون پر عمل افسران کی سہولت کے تابع نہیں بلکہ نظم و ضبط کا پابند ہونا چاہیے،دفتروں میں رولز یا انتظامی مشکل وقت کی پابندی سے اوپر نہیں ہو سکتے،ریاست شہریوں سے تو قانون منواتی ہے، لیکن خود بہانے بناتی ہے۔
حکومت کو بھی عدالت میں وہی پروٹوکول ملے گا جو عام آدمی کو ملتا ہے،حکومت کوئی انوکھا سائل نہیں، اسے بھی عام شہری کی طرح قانون ماننا پڑے گا۔
عمران خان کو اڈیالہ جیل میں حاصل سہولیات کے بارے میں رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع
بیوروکریسی کی سستی کی سزا دوسرے فریق کو نہیں دی جا سکتی،ریاست اپنی نااہلی کا بوجھ عدالت پر نہیں ڈال سکتی،یاد رہے وفاقی حکومت کے فنانس ڈویژن نے سروس ٹربیونل کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کی تھی،وفاقی حکومت نے 60 دن کی مدت گزرنے کے بعد 20 دن کی تاخیر سے اپیل دائر کی تھی۔
