نئی دہلی: بھارت کے شہر گریٹر نوئیڈا میں قائم گلگوتیاس یونیورسٹی نے اے آئی سمٹ میں چینی ساختہ روبوٹک ڈاگ کو اپنی ایجاد کے طور پر پیش کرنے کی حقیقت سامنے آنے کے بعد معافی مانگ لی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق رواں ہفتے منعقدہ اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران گلگوتیاس یونیورسٹی کی پروفیسر نیہا سنگھ نے ریاستی نشریاتی ادارے کو بتایا تھا کہ نمائش میں رکھا گیا روبوٹک ڈاگ “اورین” یونیورسٹی کے سینٹر آف ایکسیلنس میں تیار کیا گیا ہے۔ تاہم سوشل میڈیا صارفین نے فوری طور پر اس روبوٹ کو چینی کمپنی یونٹری روبوٹکس کی تیار کردہ یونٹری گو 2 قرار دیا۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سمٹ کے منتظمین نے یونیورسٹی کو اپنا اسٹال خالی کرنے کی ہدایت کی۔ جس پر عملدرآمد کر دیا گیا۔
یونیورسٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پروفیسر نیہا سنگھ روبوٹ کے تکنیکی پس منظر سے مکمل طور پر آگاہ نہیں تھیں۔ اور جوش میں آ کر غلط معلومات فراہم کر بیٹھیں۔
ادارے نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کسی بھی قسم کی دانستہ غلط بیانی کی تردید کی اور عوام سے سمجھ بوجھ کی اپیل کی۔
— Galgotias University (@GalgotiasGU) February 18, 2026
نیہا سنگھ نے بھی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ غلط فہمی غیر واضح کمیونیکیشن کے باعث پیدا ہوئی۔ یونیورسٹی نے کبھی روبوٹ کی تیاری کا باضابطہ دعویٰ نہیں کیا بلکہ اسے طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے کے لیے نمائش میں رکھا گیا تھا۔
