پشاور ہائی کورٹ نے صوبے میں سڑکوں کی بندش پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس اور چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو فوری طور پرتمام بند سڑکیں کھلوانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس اعجازانورنےسماعت میں ریمارکس دیئے کہ چوتھے روز بھی سڑکیں بند رہنا عوام کے لئے شدید مشکلات کا باعث ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے شہری اذیت میں ہیں اور لوگ جان سے جا رہے ہیں، حکمران جماعت اپنے ہی عوام کو تکلیف نہ دے۔
علیمہ خان کے 12 ویں مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ ، گرفتار کرنیکا حکم
جسٹس اعجازانور نے کہا کہ پشاورسے باہرنکلنا ممکن نہیں، حتیٰ کہ ان کے اپنے بچے بھی سڑکوں کی بندش کے باعث واپس لوٹ آئے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ آج ہی سڑکیں کھولی جائیں اورموٹروے کسی صورت بند نہ ہونے دی جائے، عدالت نے واضح کیا کہ آئندہ کسی بھی صورت پشاورسمیت صوبے کی اہم شاہراہیں بند نہیں ہونی چاہئیں۔
سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے مؤقف اپنایا کہ ارکان صوبائی اسمبلی سپریم کورٹ کا حکم منوانے اسلام آباد گئے ہیں تاہم عدالت نے کہا کہ بطورایڈووکیٹ جنرل احتجاج کی حمایت مناسب نہیں، پہلے شہری ہونے کا تقاضا پورا کریں۔
آئی جی پولیس اورچیف سیکریٹری نے عدالت سے دودن کی مہلت مانگی، تاہم عدالت نے مہلت دینے سے انکار کرتے ہوئے فوری عملدرآمد کا حکم دیا، آئی جی پولیس کی جانب سے آج ہی سڑکیں کھلوانے کی یقین دہانی پرسماعت ملتوی کردی گئی۔
