صدر آصف زرداری نے ایک بار پھر عمران خان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں تو ایسا ہوتا ہے ان کی ڈیڑھ سال میں آوازیں آنا شروع ہوگئی ہیں اگر برداشت نہیں کرسکتے تو مدر ٹریسا بن جاتے یا کرکٹ کے گاڈ۔
وہاڑی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی دورمیں فیض حمید کی حکومت تھی،فیض حمید کوکیاپتہ حکومت کیسی چلائی جاتی ہے؟ ہماری حکومت فی الحال سندھ اور بلوچستان تک محدود ہے،پنجاب میں پیپلزپارٹی نہیں ن لیگ کی حکومت ہے،مجھے پتہ ہے کہ بلوچستان کےعوام کو کن مشکلات کاسامناہے۔
جیل مردوں کی طرح کاٹو، عورتوں کی طرح کیوں رو رہے ہو؟ آصف زرداری
ایک تھنک ٹینک نے کہا پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے کی کیا ضرورت ہے،مجھے معلوم ہے پارلیمنٹ کومضبوط کرنے کاکیامطلب ہے،جیل غیرت سے کاٹی جاتی ہے،میں جیل سے رہا ہوا توہارٹ اٹیک ہوا۔
ہم نے ایک سوچ پرحکومت بنائی ،ہم نےصدر کی نشست کیلئے بھی ووٹ مانگا،وزیراعظم شہبازشریف اورمریم نوازکے ساتھ چلنے کاارادہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جیل میں میرےبچے مجھ سےملنے آئے تو بڑے ہوچکےتھے،30سال سے پنجاب سے کہہ رہاہوں اپنا پانی دریائے راوی سے نکالو،ہمیں پانی کامؤثر استعمال یقینی بناناہوگا۔
طالبان حکومت نے نائن الیون سے بھی بدتر حالات پیدا کر دیے،صدر زرداری
حکمرانی کیلئے لچک اورسیاسی بلوغت ضروری ہے،پی ٹی آئی دورمیں ملک جمود کا شکاررہا،سیاسی تعاون انتہاپسندانہ رجحانات کوروکنے میں مدددیتاہے۔
سندھ میں ڈیڑھ لاکھ ایکڑسےزائدرقبہ آبادکیا،پاکستان کو درپیش چیلنجز کا حل صرف مفاہمت اور اتحاد میں ہے،زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے،کسانوں کو ان کی محنت کا پورا صلہ دیں گے۔
صدر آصف زرداری کی اماراتی نائب صدر سےملاقات،اہم امور پر گفتگو
کسانوں کوسہولیات کی فراہمی وقت کا تقاضہ ہے،نیم کےدرخت زیادہ سے زیادہ لگائے جائیں،کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اوراس کے ایک انچ پربھی سمجھوتہ نہیں کیاجائےگا،پیپلز پارٹی نے ہمیشہ غریب اور عام آدمی کی فلاح و بہبود کیلئے عملی اقدامات کیے۔
