کراچی میں سندھ اسمبلی کے قریب جماعت اسلامی کے کارکنان اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔
کبوتر چوک اور متصل علاقوں میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے شیلنگ اور لاٹھی چارج کا سہارا لیا جبکہ جماعت اسلامی کے کارکنان نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤاورتشدد کیا، اس کے نتیجے میں علاقے کو میدان جنگ میں تبدیل ہو گیا اور پولیس کی نفری کچھ دیرکے لئے بھاگنے پرمجبورہوگئی۔
مظاہرین نے سندھ اسمبلی کی جانب پیش قدمی جاری رکھی، جس کے باعث پولیس نے بھاری نفری، اضافی دستے اور ایس ایس پی ساؤتھ کی ہدایت پر پرزن وین طلب کی۔
عمران خان کی 20 منٹ تک بات کروائی گئی ، بچوں کی آواز سن کر بیحد خوش ہوئے ، علیمہ خان
متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا گیا جبکہ کچھ پولیس اہلکار بھی مظاہرین کے حملے میں زخمی ہوئے۔ پولیس نے مظاہرین کے ذریعے استعمال ہونے والے ٹرک اور ساؤنڈ سسٹم ضبط کر لیے تاکہ مذاکرات کے دوران امن قائم رہ سکے۔
جھڑپوں کے دوران پولیس اورمظاہرین کے درمیان شیلنگ اور پتھراؤ کا سلسلہ جاری رہا، پولیس نے کبوتر چورنگی سے جامع مسجد اہلحدیث تک اپنی نفری پہنچائی لیکن مظاہرین اندرونی گلیوں اور دیگر راستوں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اس دوران نعرے بازی اور مزاحمت جاری رہی، پولیس کی جانب سے علاقے میں بلیک آؤٹ بھی کروا دیا گیا۔
ایس ایس پی ساؤتھ نے صورتحال پر قابو پانے کے لئے مزید اقدامات کا عندیہ دیا اورکہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مظاہرین کو منتشر کرنے اور امن قائم رکھنے کے لیے ہرممکن اقدام کریں گے۔
جماعت اسلامی کارکنان کی جانب سے احتجاج اور پیش قدمی جاری رہنے سے علاقے میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے اور صورتحال پر فوری کنٹرول کے لئے اضافی نفری بھی طلب کرلی گئی ہے۔
