وزیراعظم نے نیپرا کی جانب سے سولر کے نئے ریگولیشنز کے اجراء پر فوری نوٹس لے لیا۔
وزیراعظم کی زیرصدارت نیپرا کے نئے قواعد و ضوابط سے متعلق اجلاس ہوا،جس میں سولر صارفین کے حقوق اور صارفین کے بوجھ کے درمیان توازن برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
نئی سولر پالیسی کا اطلاق کن صارفین پر ہوگا؟ وزیر توانائی نے واضح کردیا
شہبازشریف نے ہدایت کی کہ پاور ڈویژن سولر صارفین کے معاہدوں کے تحفظ کیلئے نیپرا میں نظرثانی اپیل دائر کرے،سولر صارفین کے کنٹریکٹس کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جائے۔

سولر سے مستفید 4 لاکھ 66 ہزار صارفین کا بوجھ عام بجلی صارفین پر نہ پڑے،وزیراعظم نے پاور ڈویژن کو نیشنل گرڈ استعمال کرنے والےصارفین کیلئے پلان تیار کرنے کی ہدایت کردی۔
بلنگ کا نیا نظام کیا ہے؟
سولر پینل صارفین کے لیے بڑی تبدیلی کر دی گئی، بلنگ کا نیا نظام نافذ کر دیا گیا۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نیٹ میٹرنگ کے پرانے نظام کو ختم کر کے نیٹ بلنگ کا نیا قانون نافذ کر دیا ہے۔نیپرا نے اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، اس نئے نظامکا مقصد بجلی کی خرید و فروخت کے طریقہ کار کو جدید بنانا ہے۔

نئے قانون کا اطلاق نہ صرف گھریلو، صنعتی صارفین پر ہوگا بلکہ بائیو گیس، ونڈ اور دیگر صاف ذرائع سے بجلی پیدا کرنے والے افراد پر بھی اس کا اطلاق ہو گا۔ اگر ان کی پیداوار کی صلاحیت ایک میگاواٹ تک ہو۔
ایسے صارفین کو پروسیومر کہا جائے گا یعنی وہ خود بجلی استعمال بھی کریں گے اور اضافی بجلی قومی گرڈ کو بھی فراہم کریں گے، اب صارفین سے اضافی بجلی 27 روپے کے بجائے موجودہ نیشنل ایوریج ٹیرف یعنی بجلی کی اوسط قیمت پر خریدی جائے گی۔
