بالی ووڈ کے معروف اداکار راج پال یادیو نے چیک باؤنس کیس میں عدالت کی جانب سے مہلت کی درخواست مسترد ہونے کے بعد تہار جیل میں خود کو پیش کر دیا۔ اس واقعے کے بعد، ان کے حق میں فلمی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے مالی معاونت کے سلسلے نے زور پکڑ لیا ہے۔
سیاسی رہنما تیج پرتاپ یادو نے راج پال یادیو کے اہل خانہ کے لیے 11 لاکھ روپے مالی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مشکل وقت میں ان کا اور ان کی جماعت جنتا شکتی جنتا دل (جے جے ڈی) کا مکمل تعاون راجپال یادو کے ساتھ ہے، اور یہ اقدام انسانی ہمدردی کے جذبے سے کیا جا رہا ہے۔
سیف علی خان کے روبی‑ڈائمنڈ بروچ کی قیمت نے مداحوں کو حیران کر دیا
اداکار گُرمیت چودھری نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ راج پال یادیو کی موجودہ صورتحال افسوسناک ہے اور فلمی برادری کو متحد ہو کر ان کی مدد کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ راجپال یادو نے شائقین کو بے شمار خوشیاں دی ہیں، اور اب انہیں پیشہ ورانہ اور اخلاقی حمایت کی ضرورت ہے۔
اداکار و ناقد کمال آر خان (کے آر کے) نے بھی 10 لاکھ روپے مالی امداد کا اعلان کیا اور بالی ووڈ سے اپیل کی کہ مجموعی طور پر 5 کروڑ روپے جمع کیے جائیں تاکہ راجپال یادو اپنے واجبات ادا کر کے جلد رہا ہو سکیں۔ کے آر کے نے کہا کہ اگر مطلوبہ رقم جلد فراہم ہو جائے تو قانونی پیچیدگیوں میں بھی کمی ممکن ہے۔
واضح رہے کہ یہ قانونی معاملہ 2010 سے جاری ہے، جب راجپال یادو نے اپنی فلم ’اتا پتا لاپتا‘ کے لیے 5 کروڑ روپے قرض لیے تھے۔ فلم کی ناکامی اور متعدد چیک باؤنس کی وجہ سے مقدمہ شروع ہوا، اور واجب الادا رقم اب تقریباً 9 کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے۔
ہانیہ عامر کے نکاح کے اعلان کے بعد عاصم اظہر کا بیان بھی سامنے آ گیا
اپریل 2018 میں عدالت نے راجپال یادو اور ان کی اہلیہ کو نیگوٹیبل انسٹرومنٹس ایکٹ (سیکشن 138) کے تحت مجرم قرار دیا اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی۔ بعد میں کئی اپیلیں دائر کی گئیں، لیکن عدالت نے 4 فروری 2026 کو حتمی فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مزید مہلت نہیں دی جائے گی، اور راج پال یادیو کو فوراً جیل میں پیش ہونا ہوگا۔
