آسٹریلیا کیخلاف میچ کے بعد اسپنر عثمان طارق مشکل میں پڑ گئے


پاکستان کے دورے کے دوران آسٹریلوی کرکٹ ٹیم نے قومی اسپنر عثمان طارق کے بولنگ ایکشن کو مشکوک بنانے کی مہم شروع کر دی۔

ذرائع کے مطابق اسی وجہ سے عثمان طارق کو سیریز کے تیسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں شامل نہیں کیا گیا۔

دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں عثمان طارق نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیمرون گرین سمیت دو اہم وکٹیں حاصل کیں۔ تاہم آؤٹ ہونے کے بعد کیمرون گرین نے میدان میں ہی عثمان طارق کے بولنگ ایکشن پر اعتراض اٹھایا، جس پر معاملہ مزید طول پکڑ گیا۔

واقعے کے بعد عثمان طارق نے سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے ایک اسٹوری شیئر کی، جس میں روتے ہوئے بچے کی تصویر کے ساتھ لکھا گیا،“آؤٹ ہونے کے بعد؟”یہ ردعمل سوشل میڈیا پر خاصا وائرل ہوا اور شائقین کرکٹ میں بحث کا باعث بن گیا۔

بات یہیں ختم نہیں ہوئی، بلکہ آسٹریلوی میڈیا نے بھی عثمان طارق کے منفرد بولنگ ایکشن کو شہ سرخیوں میں جگہ دے دی، جسے بعض حلقوں نے منظم مہم قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ ماضی میں سابق پاکستانی اسپنر سعید اجمل بھی اسی نوعیت کی مہم کا نشانہ بن چکے ہیں۔ اس معاملے پر سعید اجمل نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کیمرون گرین کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

سعید اجمل کا کہنا تھا کہ کیمرون گرین کا ردعمل قابلِ افسوس اور غیر پیشہ ورانہ تھا۔ اگر عثمان طارق کے بولنگ ایکشن پر کوئی اعتراض ہے تو اسے آئی سی سی یا میچ ریفری کے سامنے اٹھایا جانا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق میچ ریفری کو فوری ایکشن لینا چاہیے تھا اور کیمرون گرین کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی کھلاڑی میدان میں اس طرح کا رویہ اختیار نہ کرے۔

دوسری جانب ایک معروف آسٹریلوی اخبار نے اپنے تبصرے میں آسٹریلوی کرکٹرز کو مشورہ دیا ہے کہ وہ تنازعات کے بجائے اپنے کھیل پر توجہ دیں۔


متعلقہ خبریں
WhatsApp