کوئٹہ: بلوچستان بھر میں بدھ کے روز بی ایل اے سے منسلک غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک فتنہ الہندوستان (FAH) کی جانب سے کیے گئے دہشت گرد حملے سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیے۔
کئی دہشت گرد جہنم واصل کر دیے گئے، فورسز نے چند گھنٹوں کے اندر صورتحال پر مکمل طور پر قابو پا لیا۔ فتنہ الہندوستان سے منسلک پروپیگنڈا نیٹ ورکس اور بھارتی میڈیا کی جانب سے کیے گئے دعوؤں کے برعکس یہ حملے کسی قسم کا مؤثر نتیجہ حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 41 دہشت گرد ہلاک
فورسز نے دہشت گردوں کا ”ہیروف 2.0“ مکمل ناکام بنا دیا۔ واضح رہے کہ دہشت گرد تنظیم کی جانب سے ان حملوں کو”ہیروف 2.0“ کا نام دیا گیا تھا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر دہشت گردوں نے پولیس وین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے فوری جوابی کارروائی کی جبکہ فرنٹیئر کور نے بھی موقع پر پہنچ کر دہشت گردوں کا گھیراؤ کیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں چار دہشت گرد مارے گئے اور علاقہ کلیئر کر لیا گیا۔
نوشکی میں دہشت گردوں نے ایف سی ہیڈکوارٹرز پر فائر ریڈ کیا، تاہم مستعد جوانوں نے بھرپور جوابی کارروائی کی جس کے بعد حملہ آور فرار ہو گئے اور کوئی جانی یا مالی نقصان نہ ہوا۔
دالبندین میں بھی ایف سی ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، جہاں دو دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن شروع کیا، صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں رہی۔
قلات میں دہشت گردوں نے ڈپٹی کمشنر آفس اور پولیس لائنز کو نشانہ بنانے کی ناکام کوشش کی، جس پر سیکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا، فورسز کی مؤثر کارروائی کے باعث دہشت گردوں کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔
اسی طرح پسنی میں پاکستان کوسٹ گارڈز کی تنصیب پر دور سے فائرنگ کی گئی جبکہ گوادر میں لیبر کالونی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم پولیس اور ایف سی کی بروقت کارروائی سے دونوں حملے ناکام بنا دیے گئے۔
بالچہ، تمپ، مستونگ اور خاران میں بھی سیکیورٹی چوکیوں پر فائرنگ اور گرنیڈ حملے کیے گئے، جنہیں فورسز نے مؤثر انداز میں پسپا کر دیا۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق مجموعی طور پر بلوچستان بھر میں صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے جبکہ صرف 2 سے 3 سیکیورٹی اہلکار معمولی زخمی ہوئے، کسی بھی اسٹریٹجک تنصیب کو نقصان نہیں پہنچا۔
ذرائع کے مطابق حالیہ حملے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے گزشتہ دنوں میں بلوچستان میں 50 سے زائد دہشت گردوں کے خاتمے کے بعد کیے گئے جو دہشت گردوں کی بوکھلاہٹ اور ناکامی کا واضح ثبوت ہیں۔
ان حملوں کی ذمہ داری بی ایل اے کے بیرون ملک مقیم دہشت گرد سرغنہ بشیر زیب بلوچ، اللہ نذر اور حربیار مری پر عائد کی گئی ہے جو افغانستان سمیت دیگر محفوظ ٹھکانوں سے یہ کارروائیاں چلا رہے ہیں۔ بی ایل اے اور بی ایل ایف پاکستان میں کالعدم تنظیمیں ہیں جبکہ بی ایل اے کو امریکہ بھی غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔
سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق دہشت گرد قیادت بیرون ملک محفوظ ہے جبکہ مقامی بلوچ نوجوانوں کو خودکش اور براہ راست حملوں میں جھونک کر ان کی جانیں ضائع کی جا رہی ہیں، ان ہلاکتوں کو بعد ازاں گمشدگیاں قرار دے کر جھوٹا پراپیگنڈا کیا جاتا ہے۔
دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے عام شہری آبادیوں، مزدور بستیوں اور مخلوط علاقوں کو نشانہ بنانا ان کے مجرمانہ عزائم کو بے نقاب کرتا ہے اور بلوچ عوام کی نمائندگی کے ان کے دعوؤں کو جھٹلاتا ہے۔
وادی تیراہ میں آپریشن کا جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا، سیکیورٹی ذرائع
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ہیروف 2.0 مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور یہ دہشت گرد نیٹ ورکس کی کمزور منصوبہ بندی اور سیکیورٹی فورسز کے پیشہ ورانہ ردعمل کا واضح ثبوت ہے۔
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے عوام، خصوصاً کمزور طبقوں کے تحفظ اور غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، پاکستان دہشت گردی کے خلاف متحد ہے۔
