بعض لوگ نزلے سے کیوں شدید متاثر ہوتے ہیں؟ سائنسدانوں نے وجہ تلاش کر لی

Cold

نیو یارک: سائنسدانوں نے ایک اہم پیشرفت کرتے ہوئے یہ جاننے میں کامیابی حاصل کی ہے. کہ کچھ افراد عام نزلے سے شدید متاثر ہوتے ہیں جبکہ دوسروں میں یہ صرف ہلکی چھینک تک محدود رہتا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ فرق کی اصل وجہ ناک کی اندرونی جھلی میں فوری دفاعی ردعمل ہے۔ جو وائرس کو ابتدا ہی میں روک سکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ناک کے خلیے رائنو وائرس کے خلاف جسم کی پہلی دفاعی لائن کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر یہ خلیے وائرس کے داخل ہوتے ہی اینٹی وائرل ردعمل شروع کر دیں۔ تو بیماری بڑھنے سے پہلے ہی قابو میں آ سکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق اس ابتدائی دفاع کی قیادت انٹرفیرون نامی پروٹین کرتے ہیں۔ جو متاثرہ خلیوں کے ساتھ ساتھ آس پاس کے صحت مند خلیوں کو بھی وائرس کے خلاف متحرک کر دیتے ہیں۔ اگر یہ ردعمل فوراً شروع نہ ہو تو وائرس تیزی سے پھیلتا ہے۔ جس کے نتیجے میں سوزش، بلغم کی زیادتی اور سانس کی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

ییل اسکول آف میڈیسن کے سائنسدانوں نے انسانی ناک کے اسٹیم سیلز سے لیبارٹری میں ناک کی جھلی جیسا ماڈل تیار کیا۔ جس میں بلغم بنانے والے خلیے اور بال نما خلیے شامل تھے۔ جب محققین نے وائرس کی شناخت کرنے والے سینسرز کو بلاک کیا۔ تو رائنو وائرس نے تیزی سے خلیوں کو متاثر کیا اور بعض نمونے مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔

تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر باؤ وانگ کے مطابق “تیز رفتار انٹرفیرون ردعمل رائنو وائرس کو قابو میں رکھنے میں انتہائی مؤثر ہے۔ حتیٰ کہ دیگر مدافعتی خلیے موجود نہ ہوں۔”

سینئر محقق ڈاکٹر ایلن فاکس مین نے کہا کہ اس تحقیق سے واضح ہوتا ہے۔ کہ کس وائرس سے بیماری ہوگی یا نہیں۔ اور اس کی شدت کا انحصار زیادہ تر جسم کے ردعمل پر ہوتا ہے۔ نہ کہ صرف وائرس کی خصوصیات پر۔

یہ بھی پڑھیں: ہائی بلڈ پریشر پر قابو پانے کا آسان اور قدرتی طریقہ

سائنسدانوں نے تسلیم کیا کہ لیبارٹری ماڈل میں حقیقی انسانی جسم کے تمام عوامل شامل نہیں۔ جیسے مکمل مدافعتی نظام اور ماحولیاتی اثرات، اور آئندہ تحقیق میں ان پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔ تاکہ نزلے اور دیگر سانس کی بیماریوں کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔


متعلقہ خبریں
WhatsApp