وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے نیٹ میٹرنگ صارفین کے بجلی کے یونٹس بلوں میں شامل نہ کیے جانے سے متعلق شکایات کا سختی سے نوٹس لے لیا ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات کے بعد سامنے آنے والے مسائل کا فوری جائزہ لیا گیا اور متاثرہ صارفین کے یونٹس کریڈٹ نہ ہونے کا مسئلہ حل کر دیا گیا ہے۔
پاور ڈویژن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں بتایا کہ کچھ نیٹ میٹرنگ صارفین نے اپنے لائسنس میں منظور شدہ صلاحیت سے زائد سولر سسٹمز نصب کر رکھے تھے۔ اس بنیاد پر گزشتہ ماہ بعض کیسز میں نیشنل گرڈ کو فراہم کی گئی بجلی کے یونٹس کو مکمل طور پر کریڈٹ نہیں کیا گیا، جس پر صارفین کی جانب سے شدید تحفظات سامنے آئے۔

پاور ڈویژن نے وضاحت کی ہے کہ تمام یونٹس کا کریڈٹ روک دینا درست اقدام نہیں تھا۔ نظرثانی شدہ ہدایات کے تحت اب صرف وہی یونٹس کریڈٹ نہیں کیے جائیں گے جو منظور شدہ صلاحیت سے زائد پیدا کیے گئے ہوں گے، جبکہ منظور شدہ حد کے اندر نیشنل گرڈ کو فراہم کی گئی بجلی کے تمام یونٹس مکمل طور پر بلوں میں شامل کیے جائیں گے۔
سولر سسٹم استعمال کرنے والوں کو بڑا دھچکا،صارفین کی چیخیں نکل گئیں
وفاقی وزیر توانائی کی ہدایت پر پاور ڈویژن نے تمام پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کو باضابطہ احکامات جاری کر دیے ہیں کہ وہ فوری طور پر نظرثانی شدہ پالیسی پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ اس کے ساتھ ہی ان صارفین کے لیے بھی ریلیف کا اعلان کیا گیا ہے جن کے گزشتہ بجلی بلوں میں نیٹ میٹرنگ یونٹس کریڈٹ نہیں کیے گئے تھے۔ پاور ڈویژن کے مطابق ایسے تمام صارفین کو آئندہ بلنگ سائیکل میں ضروری ایڈجسٹمنٹ دے دی جائے گی۔
وفاقی وزیر اویس لغاری نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بجلی صارفین کو ان کے جائز حقوق فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی سطح پر ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹ میٹرنگ پالیسی کا مقصد صارفین کی حوصلہ افزائی اور متبادل توانائی کے فروغ کو یقینی بنانا ہے، نہ کہ انہیں مشکلات سے دوچار کرنا۔
سولر صارفین کیلئے بڑی آواز بلند ہوگئی
پاور ڈویژن کے مطابق اس فیصلے سے ملک بھر کے لاکھوں سولر صارفین کو ریلیف ملے گا اور نیٹ میٹرنگ نظام پر اعتماد بحال ہوگا۔
