پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی ایک بار پھر پاکستانی کرکٹ میں متحرک کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اطلاعات کے مطابق جیسن گلیسپی اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی ایک فرنچائز کے درمیان کوچنگ رول سے متعلق مذاکرات کامیابی سے مکمل ہو گئے ہیں اور فریقین کے درمیان معاہدہ طے پا چکا ہے، تاہم باضابطہ اعلان ابھی باقی ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کیوں چھوڑی؟ جیسن گلیسپی کھل کر بول پڑے
ذرائع کا کہنا ہے کہ جس پی ایس ایل فرنچائز کے ساتھ جیسن گلیسپی معاہدہ کر رہے ہیں، اس کا نام فی الحال صیغۂ راز میں رکھا گیا ہے، تاہم جلد ہی اس حوالے سے تفصیلات سامنے آ جائیں گی۔ پی ایس ایل انتظامیہ کی جانب سے بھی اس پیش رفت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
سابق آسٹریلوی فاسٹ بولر جیسن گلیسپی کا کوچنگ کا تجربہ خاصا وسیع ہے۔ وہ کاؤنٹی کرکٹ، ڈومیسٹک لیگز اور مختلف بین الاقوامی ٹیموں کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ اپریل 2024 میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں قومی ٹیسٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کیا تھا، تاہم دسمبر 2024 میں انہوں نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
گلیسپی کی پی سی بی سے علیحدگی کی وجہ بورڈ کے ساتھ انتظامی معاملات پر اختلافات اور اندرونی رابطوں میں مسائل بتائے گئے تھے۔ اپنے دورِ کوچنگ کے دوران انہوں نے محدود اوورز کی ٹیم کی ذمہ داریاں بھی عارضی طور پر سنبھالیں، جب گیری کرسٹن 2024 میں اپنے عہدے سے الگ ہوئے تھے۔
جیسن گلیسپی نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ، واجبات ان کی طرف نکلتے ہیں ، پاکستان کرکٹ بورڈ
جیسن گلیسپی کا کہنا تھا کہ قومی ٹیم کے ساتھ ان کا وقت پس پردہ کشیدگی کا شکار رہا اور انہوں نے پی سی بی کے بعض فیصلوں اور کمیونیکیشن کے نظام پر کھل کر تنقید بھی کی تھی، جسے انہوں نے غیر مؤثر قرار دیا۔
واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ کا آغاز 2016 میں ہوا تھا اور یہ لیگ دنیا کی صفِ اول کی ٹی ٹوئنٹی لیگز میں شمار ہوتی ہے۔ پی ایس ایل میں ماضی میں بھی کئی نامور غیر ملکی کوچز اور سپورٹ اسٹاف خدمات انجام دے چکے ہیں۔ جیسن گلیسپی کی ممکنہ شمولیت کو لیگ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
