برطانیہ، نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) نے پروسٹیٹ کینسر کے علاج کے لیے ایک نئی دوا کی منظوری دے دی ہے، جو ہزاروں مردوں کے لیے زندگی بچانے کا سبب بنے گی۔
این ایچ ایس کے مطابق یہ جدید دوا مریضوں میں کینسرکے باعث موت کے خطرے کو تقریباً 50 فیصد تک کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اورہرسال مزید 7 ہزار سے زائد مردوں کو دستیاب ہوگی۔
صحت کے ماہرین اورمریضوں کے نمائندے اس فیصلے کو ایک ’تاریخی فتح‘ قراردے رہے ہیں کیونکہ یہ پہلی بار ہے کہ این ایچ ایس نے پروسٹیٹ کینسرکی ایسی دوا کیلئے فنڈنگ کی منظوری دی ہے جو سالانہ 3 ہزار سے زائد جانیں بچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
طویل عرصے سے ماہرین اور مریض اس دوا کو عام مریضوں کے لیے دستیاب کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے، اور یہ اقدام اسی مطالبے کا مثبت جواب ہے۔
ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھانے والی عام عادات
این ایچ ایس کا کہنا ہے کہ اس علاج کے ذریعے مریضوں میں بیماری کے باعث موت کے خطرے میں نمایاں کمی آئے گی، اور ہر سال ہزاروں مرد اس جدید علاج سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
ماہرین صحت کے مطابق یہ دوا پروسٹیٹ کینسرکے خلاف ایک اہم پیشرفت ہے اورمستقبل میں مریضوں کی زندگیوں میں بہتری لانے میں کلیدی کردارادا کرے گی۔
یہ اقدام نہ صرف مریضوں کی زندگیوں کو بچانے میں مددگارثابت ہوگا بلکہ برطانیہ میں کینسرکے علاج کے معیار کو بھی نئی بلندیوں پرلے جائے گا۔
