پیک شدہ غذائی اشیاء بنانے والی کمپنیاں اور فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس آئندہ برس اپنی متعدد مصنوعات میں بڑی تبدیلیاں کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں، کیونکہ وزن کم کرنے والی نئی جی ایل پی-1 گولیاں (Weight-loss pill)جنوری سے مارکیٹ میں دستیاب ہوں گی۔ ماہرین کے مطابق یہ گولیاں سستی ہونے اور انجیکشن کے مقابلے میں آسان استعمال کے باعث زیادہ مقبول ہوں گی۔
پاکستان میں اینٹی بائیوٹک ادویات کے غلط استعمال سے انفیکشنز میں اضافہ
رائٹرز کے مطابق امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) نے پیر کے روز نووو نورڈسک کی وزن کم کرنے والی دوا ویگووی کی گولی کی منظوری دی، جس کے بعد منگل کو کئی بڑی فوڈ کمپنیوں کے شیئرز میں کمی دیکھی گئی۔ ادھر ایلی للی کی جانب سے تیار کی جانے والی متبادل دوا کو بھی اگلے سال منظوری ملنے کی توقع ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی وزن کم کرنے والے انجیکشنز کی مقبولیت کے باعث صارفین زیادہ پروٹین، کم مقدار اور صحت بخش خوراک کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اب گولیوں کی صورت میں دوا دستیاب ہونے سے یہ رجحان مزید تیز ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں فوڈ انڈسٹری میں طویل المدتی تبدیلیاں متوقع ہیں۔
کیڑے مار ادویات سے تیار شدہ کپڑے نوزائیدہ بچوں میں ملیریا کا خطرہ کم کرنے کا سبب قرار
رابوبینک کے کنزیومر فوڈز اینالسٹ جے پی فروسارڈ کے مطابق، صارفین نمکین اسنیکس، میٹھی اشیاء، سافٹ ڈرنکس اور شراب نوشی میں کمی کررہے ہیں جبکہ پروٹین اور فائبر والی غذاؤں کی طرف زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فوڈ کمپنیاں اور ریسٹورنٹس اس بڑھتے ہوئے طبقے کی ضروریات کے مطابق اپنی مصنوعات ڈھالیں گے۔
تحقیقی ادارے کارنیل یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق، جی ایل پی-1 ادویات استعمال کرنے والے گھرانوں کے گروسری اخراجات میں اوسطاً 5.3 فیصد جبکہ فاسٹ فوڈ پر خرچ میں تقریباً 8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سستی اور آسان گولیوں کے باعث زیادہ افراد طویل عرصے تک یہ ادویات استعمال کریں گے۔
امریکا میں برطانیہ سے آنے والی ادویات ٹیرف سے مستثنیٰ قرار
اسی تناظر میں کون ایگرا، نیسلے اور ڈینون جیسی کمپنیاں اپنی مصنوعات کو “جی ایل پی-1 فرینڈلی” قرار دے رہی ہیں، جبکہ چیپوٹلے سمیت کئی ریسٹورنٹس ہائی پروٹین اور چھوٹے پورشن والے مینو متعارف کرا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ تبدیلیاں فوڈ انڈسٹری کے مستقبل کا واضح اشارہ ہیں۔
