بھارت اور جنوبی افریقا(India and South Africa) کے درمیان لکھنؤ میں کھیلا جانے والا چوتھا ٹی ٹوئنٹی میچ شدید دھند اور خراب حدِ نگاہ کے باعث بغیر کسی کھیل کے منسوخ کردیا گیا۔
میچ کے دوران لکھنؤ میں فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک بلند رہی، جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 400 سے زائد ریکارڈ کیا گیا، تاہم امپائرز کی اصل تشویش میدان میں حدِ نگاہ کی خراب صورتحال تھی۔
پاکستان کیخلاف میچ،نوجوان بھارتی کرکٹر نے دل جیت لیے
امپائرز نے میچ شروع کرانے کے لیے چھ بار میدان کا معائنہ کیا۔ معائنے کے دوران ایک امپائر اسکوائر باؤنڈری پر جا کر پچ کے قریب کھڑے ساتھی کی جانب سے بلند کی گئی سفید گیند کو دیکھنے کی کوشش کرتا رہا، مگر دھند اس قدر شدید تھی کہ گیند واضح طور پر نظر نہ آ سکی۔ بالآخر رات 9 بج کر 26 منٹ پر میچ کو باضابطہ طور پر منسوخ کرنے کا اعلان کردیا گیا۔
اس نتیجے کے بعد تین میچوں میں 2-1 کی برتری رکھنے والی بھارتی ٹیم کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں ناقابلِ شکست سیریز فتوحات کی تعداد 15 ہوگئی، جبکہ سیریز کا فیصلہ کن اور آخری میچ جمعہ کو احمد آباد میں کھیلا جائے گا۔
معروف لیگ کے چیف ایگزیکٹو پی ایس ایل کے مداح نکلے،میچ کرانے کا عندیہ دیدیا
شمالی بھارت میں سردیوں کے دوران کرکٹ میچوں کا انعقاد ایک عرصے سے متنازع رہا ہے، جہاں دھند کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی بھی کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لیے تشویش کا باعث بنتی ہے۔ اس سے قبل بھی بھارتی کرکٹ بورڈ (bcci) کو شیڈولنگ پر نظرثانی کرنا پڑی تھی، جب جنوبی افریقا کے خلاف دہلی میں ہونے والا ٹیسٹ میچ دیوالی سے پہلے منتقل کیا گیا تاکہ آلودگی کے شدید اثرات سے بچا جا سکے۔
جنوبی افریقا کا دورۂ بھارت جمعہ کو احمد آباد میں اختتام پذیر ہوگا۔ یہ دورہ مجموعی طور پر خاصا دلچسپ رہا، جہاں مہمان ٹیم نے ٹیسٹ سیریز میں بھارت کو کلین سوئپ کیا، جبکہ ون ڈے سیریز میں فیصلہ کن میچ تک مقابلہ رہا، جسے بھارت نے 1-2سے جیت لیا۔
بدعنوانی کے سنگین الزامات،چار بھارتی کرکٹر ز معطل،میچز کھیلنے پر پابندی
ٹی ٹوئنٹی سیریز میں بھارت نے دو شاندار فتوحات کے ذریعے 1-2 کی برتری حاصل کی، مگر لکھنؤ میں خراب روشنی کے باعث سیریز قبل از وقت اپنے نام نہ کر سکا۔
واضح رہے کہ فاسٹ بولر جسپریت بمراہ، جو ذاتی وجوہات کے باعث گزشتہ میچ میں شامل نہیں ہو سکے تھے، لکھنؤ میں ٹیم کے ہمراہ موجود تھے۔ ان کی واپسی احمد آباد میں ہونے والے آخری میچ سے قبل بھارتی ٹیم کے لیے حوصلہ افزا خبر سمجھی جا رہی ہے، خصوصاً اس لیے کہ یہ میچ بمراہ کے آبائی شہر میں کھیلا جائے گا۔
