ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کیڑے مار ادویات سے تیار شدہ کپڑے نوزائیدہ بچوں میں ملیریا کا خطرہ کم کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بچوں کو اٹھانے کے لیے استعمال ہونے والے کپڑوں کو ایسی کیڑے مار دوا سے تیار کیا گیا۔ جو فوجی لباس میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ اس سے بچوں میں ملیریا کے خطرے میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔
یہ تحقیق یوگنڈا کے ملیریا سے شدید متاثرہ علاقوں میں 6 ماہ تک جاری رہا۔ جس میں 400 ماؤں اور ان کے بچوں کو شامل کیا گیا۔ تحقیق میں شامل بچوں کی عمریں 6 ماہ سے 18 ماہ کے درمیان تھیں۔
مطالعے کے دوران نصف شرکاء کو کمپنی سوئیر پراڈکٹس کی تیار کردہ کیڑے مار دوا پیریمیثرین سے علاج شدہ کپڑوں کے رول دیئے گئے۔ جبکہ باقی نصف کو صرف پانی سے علاج شدہ کپڑے فراہم کیے گئے۔ تاکہ انہیں کنٹرول گروپ کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ ہر چار ہفتے بعد ان کپڑوں کو دوبارہ کیڑے مار دوا سے علاج کیا گیا۔ اس دوران تمام ماؤں اور بچوں کو کیڑے مار دوا سے علاج شدہ مچھر دانیاں بھی فراہم کی گئیں۔
یہ تحقیق معروف طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہوئی۔ جس کے مطابق پیریمیثرین سے علاج شدہ کپڑوں کے استعمال سے بچوں میں ملیریا کے کیسز میں 66 فیصد کمی دیکھی گئی۔ تاہم محققین نے اس بات پر زور دیا ہے۔ کہ اس طریقہ کار کے طویل المدتی اثرات جانچنے کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں سپر فلو نے خطرے کی گھنٹی بجادی، احتیاط کی وارننگ جاری
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ملیریا چاہے وہ شدید ہو یا غیر پیچیدہ۔ بچوں میں طویل المدتی ذہنی اور علمی کمزوری کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے اس نئے طریقہ علاج کے ممکنہ فوائد اور خطرات کے درمیان محتاط توازن قائم کرنا ناگزیر ہے۔
