سری لنکا کے ورلڈ کپ فاتح سابق کپتان اور سابق پٹرولیم وزیر ارجنا راناٹنگا (arjuna ranatunga
)کو بدعنوانی کے مقدمے میں گرفتار کرنے کی تیاری کر لی گئی ہے۔
حکام کے مطابق ارجنا راناٹنگا پر اپنے دورِ وزارت میں تیل کی خریداری کے طریقہ کار میں غیر قانونی تبدیلیاں کرنے کا الزام ہے، جس کے باعث ریاست کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
بدعنوانی کی تحقیقات کرنے والے ادارے کمیشن ٹو انویسٹی گیٹ الیگیشنز آف برائبری یا کرپشن کے مطابق ارجنا راناٹنگا اور ان کے بھائی پر الزام ہے کہ انہوں نے طویل المدتی تیل کے معاہدوں کے بجائے مہنگی اسپاٹ پرچیزنگ کی اجازت دی، جس سے سرکاری خزانے کو شدید نقصان پہنچا۔
کمیشن کے مطابق 2017 میں کی گئی 27 خریداریوں کے نتیجے میں ریاست کو مجموعی طور پر 800 ملین سری لنکن روپے کا نقصان ہوا، جو اس وقت پانچ ملین امریکی ڈالر سے زائد بنتا تھا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ارجنا راناٹنگا اس وقت ملک سے باہر ہیں اور سری لنکا واپسی پر انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔ یہ تفصیلات کولمبو کے مجسٹریٹ اسنگا بودھراگاما کے سامنے پیش کی گئیں۔
پاکستان کیخلاف میچ،نوجوان بھارتی کرکٹر نے دل جیت لیے
دوسری جانب ارجنا راناٹنگا کے بڑے بھائی دھمیکا راناٹنگا، جو اس وقت سرکاری ادارے سیلون پیٹرولیم کارپوریشن کے چیئرمین تھے، کوگرفتارکرلیا گیا۔ بعد ازاں انہیں عدالت کی جانب سے ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
حکام کے مطابق تحقیقات کا دائرہ وسیع ہے اور تیل کی خریداری سے متعلق تمام فیصلوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ ارجنا راناٹنگا 1996 میں سری لنکا کو کرکٹ ورلڈ کپ جتوانے والی ٹیم کے کپتان رہ چکے ہیں اور ملک کے مقبول ترین کرکٹرز میں شمار ہوتے ہیں۔ ان پر لگنے والے الزامات نے سری لنکا میں سیاسی اور کھیلوں کے حلقوں میں شدید بحث چھیڑ دی ہے۔
