ہالی ووڈ کے معروف اداکار اور ہدایتکار روب رائنر کے بیٹے نک رائنر کو والدین کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق روب رائنر اور ان کی اہلیہ مشیل رائنر کی لاشیں ان کے لاس اینجلس کے گھر سے ملی تھیں، جس کے بعد تحقیقات کے نتیجے میں ان کے بیٹے کو حراست میں لیا گیا۔
نک رائنر ماضی میں منشیات کی لت کے باعث طویل عرصے تک مشکلات کا شکار رہے۔ خود روب رائنر نے 2016 میں ایک پوڈکاسٹ میں انکشاف کیا تھا کہ ان کے بیٹے نے 15 سال کی عمر میں منشیات کا استعمال شروع کیا، جبکہ 19 سال کی عمر تک وہ کئی بار بحالی مراکز میں داخل رہے۔
روب رائنر اور نک رائنر نے مل کر 2015 میں فلم Being Charlie بنائی، جو نک کی ہیروئن کی لت اور خاندانی اثرات پر مبنی تھی۔ روب رائنر نے اسے اپنی زندگی کا سب سے ذاتی اور جذباتی تخلیقی تجربہ قرار دیا تھا۔ ان کے مطابق فلم کا اختتام جان بوجھ کر امید پر رکھا گیا تاکہ بحالی کے سفر کی حقیقت کو اجاگر کیا جا سکے۔
نک رائنر نے مختلف انٹرویوز میں بتایا تھا کہ وہ نشے کے دوران بے گھر بھی رہے اور کم از کم 17 بار بحالی مراکز میں داخل ہوئے۔ انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ وہ کئی بار موت کے قریب پہنچ گئے تھے۔
روب اور مشیل رائنر کی شادی 1989 میں ہوئی تھی۔ ان کے تین بچے ہیں، جبکہ خاندان چند ماہ قبل روب رائنر کی فلم Spinal Tap II کے پریمیئر پر اکٹھا نظر آیا تھا۔ اداکارہ ٹریسی رائنر سمیت قریبی عزیزوں اور دوستوں نے اس واقعے پر گہرے صدمے اور حیرت کا اظہار کیا ہے۔
صحافی ماریا شریور نے کہا کہ روب اور مشیل رائنر اپنے بچوں سے بے حد محبت کرتے تھے اور ہمیشہ بہترین والدین بننے کی کوشش میں رہے۔ اداکار ہیری شیئرر نے اس واقعے کو “یونانی المیے جیسا سانحہ” قرار دیا۔
واقعے کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ نک رائنر کو عدالت میں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔
