خاتونِ اوّل بی بی آصفہ بھٹو زرداری(Aseefa Bhutto Zardari) نے والدین، سرپرستوں، عوامی نمائندوں اور کمیونٹی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ 15 سے 21 دسمبر 2025 تک قومی انسدادِ پولیو ویکسی نیشن مہم کی بھرپور حمایت کریں۔
ایک بیان میں آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ اس مہم کی کامیابی اجتماعی ذمہ داری سے مشروط ہے اور خاندانوں سے اپیل ہے کہ پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو پولیو کے قطرے ضرور پلائے جائیں۔
ملک بھر میں کل سے رواں سال کی آخری پولیو مہم کا آغاز ہو گا
انہوں نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی جدوجہد کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پہلی قومی انسدادِ پولیو مہم 1994 میں ان کی قیادت میں شروع کی گئی تھی اور ان کا وژن آج بھی اس مرض کے خاتمے کے لیے قومی کوششوں کی رہنمائی کر رہا ہے۔
بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ اس جدوجہد سے ان کا گہرا ذاتی تعلق ہے، کیونکہ وہ اس لمحے کو یاد کرتی ہیں جب ان کی والدہ نے بطور وزیرِاعظم انہیں خود پولیو کے پہلے قطرے پلائے تھے۔ ان کے مطابق وہی لمحہ پاکستان کی پولیو کے خلاف قومی جدوجہد کا نقطۂ آغاز تھا اور اسی نے اس مقصد کے لیے ان کی تاحیات وابستگی کو شکل دی۔
پولیو کے 100 فیصد خاتمے کا ہدف ہمارا مشترکہ مشن ہے، مریم نواز
ہائی رسک علاقوں میں، جہاں کمیونٹی بیسڈ ویکسی نیشن اور اسپیشل موبائل ٹیموں کی حکمتِ عملی اپنائی جا رہی ہے، وہاں پانچ روزہ مہم ہوگی جس میں دو اضافی دن شامل ہوں گے۔ ملک بھر میں 408,484 فرنٹ لائن پولیو ورکرز تعینات کیے گئے ہیں، جن میں ایریا انچارجز، یونین کونسل میڈیکل آفیسرز اور موبائل، فکسڈ اور ٹرانزٹ ٹیمیں شامل ہیں۔
مہم کے دوران ملک بھر میں 45.4 ملین بچوں کو ویکسین پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جن میں پنجاب میں 23.3 ملین، سندھ میں 10.6 ملین، خیبر پختونخوا میں 7.3 ملین اور بلوچستان میں 2.66 ملین بچے شامل ہیں، جبکہ باقی بچوں کو آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں کور کیا جائے گا۔
