وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ایک بریفنگ کے دوران جنرل باجوہ اور فیض حمید سے بات ہوئی، جنرل باجوہ نے کہا رانا بہت موٹے ہو گئے ہو، جیل میں بہت اسمارٹ تھے۔
ایک انٹرویو کے دوران رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جنرل باجوہ نے کہا فیض، رانا صاحب کو دوبارہ اسمارٹ بناؤ۔ اس پر میں نے جنرل باجوہ کو کہا کہ مجھ پر مقدمہ آپ نے ہی بنوایا، اللّٰہ اس دنیا ہی میں اس کا حساب کرے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ معاملات فیض حمید، جنرل باجوہ اور بانی پی ٹی آئی کی مرضی سے ہی چل رہے تھے۔
رانا ثناللہ نے اپنے اوپر ہیروئن کیس پر جنرل باجوہ کو confront کیا اور جب انہوں نے انکار کیا تو انکو کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ آرمی کا سرونگ افسر جو ادارے کا سربراہ ہو، وہ ایک جھوٹا مقدمہ بناۓ اوراُس کے آرمی چیف کی مرضی نہ ہو! @RanaSanaullahPK @pmln pic.twitter.com/0H6Kgbgx0E
— Rabeea (@RabeeaSK) December 13, 2025
انہوں نے کہا کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی حاضر سروس افسر آرمی چیف کی مرضی کے بغیر جھوٹا مقدمہ بنائے اور اگلے دن اس کا کورٹ مارشل نہ ہو
