حکومت نے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو آخری وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستانی قوانین کی مکمل پابندی کریں، ورنہ برازیل کے طرز کی پابندی عائد کی جائے گی۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلعل چوہدری اور وزیر مملکت برائے قانون و انصاف عقیل ملک نے بتایا کہ اگر پلیٹ فارمز قوانین کی خلاف ورزی کریں تو برازیل کی مثال کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
گوگل نے اینڈرائیڈ صارفین کیلئے ایمرجنسی سروسز میں نیا فیچر متعارف کر دیا
حکام کے مطابق برازیل میں 2024 میں ٹوئٹر پر عارضی پابندی عائد کی گئی تھی کیونکہ اس نے انتخابات سے متعلق غلط معلومات پھیلانے والے اکاؤنٹس نہیں ہٹائے، بعد ازاں ایکس نے جرمانہ ادا کیا اور مقامی نمائندہ مقرر کرنے کے بعد پابندی ختم کروائی، پاکستان اس کیس کو اپنی رہنمائی کے لیے دیکھ رہا ہے۔
حکومت نے فیس بک، واٹس ایپ، یوٹیوب، ٹک ٹاک، ٹیلیگرام اور ایکس کو ہدایت دی کہ وہ پاکستان میں دفاتر قائم کریں، دہشت گردی سے متعلق اکاؤنٹس کی شناخت اور حذف کے لیے اے آئی ٹولز استعمال کریں، آئی پی ایڈریس فراہم کریں اور ممنوعہ صارفین کو دوبارہ رجسٹر ہونے سے روکنے کے لیے فلٹرنگ سسٹم نافذ کریں۔
فائیو جی لائسنس آئندہ سال فروری، مارچ تک کر دیں گے، پی ٹی اے
کئی اکاؤنٹس امریکی اور اقوام متحدہ کی ممنوعہ تنظیموں سے وابستہ پائے گئے ہیں اور ان کی سرگرمیاں علاقائی سیکورٹی کے لیے خطرہ ہیں۔
حکام نے ایکس کو خاص طور پر کم تعاون کرنے والا قرار دیا، جبکہ ٹک ٹاک اور ٹیلیگرام نسبتاً بہتر تعمیل کر رہے ہیں، 24 جولائی کو پلیٹ فارمز کو تفصیلی بریفنگ دی گئی تھی، تاہم موصول ہونے والا جواب ناکافی پایا گیا۔
