پاکستان میں ریئلٹی شو ’لازوال عشق‘ دیکھنے میں مشکلات کے پیش نظر شو کی ٹیم نے خبردار کیا ہے کہ کچھ غیر واضح سیاسی وجوہات کی بنا پر پروگرام تک رسائی محدود ہو سکتی ہے۔
انسٹاگرام پر جاری بیان میں تخلیق کاروں نے کہا کہ پروگرام سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، امریکہ، جرمنی، فرانس، برطانیہ اور دیگر ممالک میں معمول کے مطابق دستیاب ہے، تاہم پاکستان میں ناظرین کو رسائی میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
یوٹیوبر رجب بٹ اور ٹک ٹاکر ندیم نانی والا اسلام آباد ہائیکورٹ پیش
ٹیم نے پاکستانی ناظرین اور دیگر ممالک میں اسی نوعیت کے مسائل سے دوچار افراد کو مشورہ دیا کہ وہ شو دیکھنے کے لیے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) استعمال کریں تاکہ بغیر رکاوٹ شو سے لطف اندوز ہو سکیں۔ بین الاقوامی ناظرین کے لیے تسلی دی گئی کہ پاکستان کے باہر کوئی پابندی نہیں ہے اور پروگرام عالمی سطح پر مکمل طور پر دستیاب ہے۔
بیان میں سیاسی خدشات کی نوعیت واضح نہیں کی گئی، نہ ہی یہ بتایا گیا کہ یہ عارضی ہے یا کسی وسیع پالیسی کا حصہ ہے، تاہم تخلیق کاروں نے یقین دلایا کہ وہ ناظرین کو باخبر رکھنے اور پروگرام کی بغیر رکاوٹ رسائی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
واضح رہے کہ اکتوبر میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست کی سماعت ہوئی تھی جس میں ’لازوال عشق‘ پر پابندی کی درخواست کی گئی، درخواست دہندہ جماعت امن ترقی پارٹی نے موقف اپنایا کہ شو فحاشی اور اخلاقی بگاڑ کو فروغ دیتا ہے اور سماجی و ثقافتی اقدار کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ عدالت نے وفاقی حکومت، پی ایم ای آر اے، پی ٹی اے اور دیگر متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کیے اور آئندہ سماعت 20 نومبر کے لیے مقرر کی۔
رنویر سنگھ کی فلم دھریندر ریلیز، سرحد کے دونوں جانب ناظرین میں اختلافِ رائے جاری
شو نے عوامی رائے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، کچھ ناظرین اسے ڈیجیٹل تفریح میں ایک جراتمندانہ تجربہ اور تخلیقی آزادی کی جانب قدم قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اخلاقی حدود کو عبور کرتا ہے اور آن لائن مواد کے لیے غلط مثال قائم کرتا ہے۔ اس بحث نے اظہار رائے کی آزادی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ضابطہ کاری کے دائرہ کار پر بڑے سوالات کو دوبارہ زندہ کیا ہے۔
پی ایم ای آر اے نے پہلے واضح کیا تھا کہ وہ ’لازوال عشق‘ پر پابندی نہیں لگائے گا، کیونکہ شو ٹیلی ویژن نشر کرنے کے لیے لائسنس یافتہ نہیں ہے اور اس لیے ریگولیٹری دائرہ کار کے باہر آتا ہے۔
